سبھی داؤ کے چکر میں رہتے ہیں جس کا جہاں جتنا بھی لگ جائے،گنتی ہی کے سر پھرے ہیں، ضمیر فروشوں کی منڈی ہے بس کوئی صحیح دام لگانے والا ہو
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 235
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: اٹلی کا ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
دھاندلی کے طریقے
قبل از پولنگ دھاندلی میں الیکشن کے پیش نظر سرکاری وسائل کا کسی ایک پارٹی یا امیدوار کے حق میں استعمال، جعلی ووٹوں کا اندراج مثلاً مرے افراد کے ووٹ ڈیلیٹ نہ کرنا، دوسرے حلقے کے ووٹرز کا کسی اور حلقے میں ووٹ کا اندراج وغیرہ شامل ہیں۔
پولنگ سٹیشن پر جانبدار الیکشن عملہ کی تعیناتی، پولنگ میٹریل میں خورد برد، پولنگ سٹاف کا سیاسی لوگوں کے ڈیروں پر قیام، پولنگ والے دن جعلی اور مرے لوگوں کے ووٹ کاسٹ کروانا، بیلٹ پیپرز کی ضرورت سے زیادہ چھپائی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ دھاندلی انفرادی طور پر بھی کی جا سکتی ہے اور اجتماعی طور پر بھی۔ اس لیول پر خود الیکشن کمیشن، الیکشن عملہ اور وہ ادارے شامل ہوتے ہیں جن کی خواہش پر حکومتیں بنتی اور چلتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تنقید کے باوجود کھیلوں میں سعودی عرب کا بڑھتا اثر و رسوخ: 2034 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی میں کامیابی کے عوامل کیا ہیں؟
دوران پولنگ حالات
دوران پولنگ لاء اینڈ آڈر کی صورتحال پیدا کرکے کسی مخصوص امیدوار یا پارٹی کو فوائد دینا، امن و امان کو قائم رکھنے والے اداروں کا مخصوص حکمت عملی پر عمل کرنا، اور الیکشن کے بعد نتائج تبدیل کرنا شامل ہیں۔ کسی مخصوص خفیہ جگہ بیٹھ کر پولنگ بیگ کھولنا اور انتخابی عمل میں اپنی پسند کے امیدوار یا پارٹی کو جتوانے کے لئے بیگ میں اصل کے بجائے ٹمپرڈ نتائج بھر دینا، یہ سب پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کا بانی پی ٹی آئی عمران خان کا الشفاء ہسپتال سے مکمل معائنہ اور علاج کروانے کا مطالبہ
ماضی کی مثالیں
1970ء کے الیکشنز کے بعد کی تاریخ میرے مؤقف کی حمایت میں کھلی دلیل ہے۔ اس کے بعد کے الیکشنز بھی کسی صورت شفاف نہیں قرار دئیے جا سکتے۔ ایسے ہی نتائج بلدیاتی انتخابات کے لئے بھی ہیں لیکن یہ صرف ضلع کونسلوں اور میئر کے انتخابات تک ہی محدود ہیں۔ اس ملک میں شاید سبھی داؤ کے چکر میں رہتے ہیں، ریہڑی بان سے دکان دار تک، افسر سے ماتحت تک سبھی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مکانات گرانا شروع کر دیے
ایماندار لوگوں کی تلاش
وقت نے ایماندار اور غیرت والے لوگوں کی تعداد گھٹا کر آٹے میں نمک کے برابر کر دی ہے۔ یہاں صرف ضمیر فروشوں کی منڈی ہے، بس کوئی صحیح دام لگانے والا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ہم بھی طالبعلمی دور میں سیاست کرتے تھے، آپ کو راستہ دکھا رہے ہیں، اپنا ٹرمپ کارڈ سنبھال کر رکھیں، جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس
کہانی کا اختتام
ایک اور سر پھیرے کی داستان: گوجرانوالہ میں میرا دوران ملازمت کا واقعہ، جہاں عبدالقیوم طاہر، ایس ڈی او (ہائی ویز)، ایک دبنگ افسر تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی ساری سرکاری نوکری میں کوئی کورٹ کیس نہیں ہارا اور ہمیشہ حق کی فتح دیکھی۔ یہ سچائی اور اللہ کی کرم نوازی تھی کہ وہ اپنے عہدے پر پہنچے۔
کتاب کے حقوق
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








