سبھی داؤ کے چکر میں رہتے ہیں جس کا جہاں جتنا بھی لگ جائے،گنتی ہی کے سر پھرے ہیں، ضمیر فروشوں کی منڈی ہے بس کوئی صحیح دام لگانے والا ہو
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 235
یہ بھی پڑھیں: بھارت: کیمیکل فیکٹری میں دھماکہ، 10 افراد ہلاک، درجنوں زخمی، امدادی کاروائیاں جاری
دھاندلی کے طریقے
قبل از پولنگ دھاندلی میں الیکشن کے پیش نظر سرکاری وسائل کا کسی ایک پارٹی یا امیدوار کے حق میں استعمال، جعلی ووٹوں کا اندراج مثلاً مرے افراد کے ووٹ ڈیلیٹ نہ کرنا، دوسرے حلقے کے ووٹرز کا کسی اور حلقے میں ووٹ کا اندراج وغیرہ شامل ہیں۔
پولنگ سٹیشن پر جانبدار الیکشن عملہ کی تعیناتی، پولنگ میٹریل میں خورد برد، پولنگ سٹاف کا سیاسی لوگوں کے ڈیروں پر قیام، پولنگ والے دن جعلی اور مرے لوگوں کے ووٹ کاسٹ کروانا، بیلٹ پیپرز کی ضرورت سے زیادہ چھپائی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ دھاندلی انفرادی طور پر بھی کی جا سکتی ہے اور اجتماعی طور پر بھی۔ اس لیول پر خود الیکشن کمیشن، الیکشن عملہ اور وہ ادارے شامل ہوتے ہیں جن کی خواہش پر حکومتیں بنتی اور چلتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
دوران پولنگ حالات
دوران پولنگ لاء اینڈ آڈر کی صورتحال پیدا کرکے کسی مخصوص امیدوار یا پارٹی کو فوائد دینا، امن و امان کو قائم رکھنے والے اداروں کا مخصوص حکمت عملی پر عمل کرنا، اور الیکشن کے بعد نتائج تبدیل کرنا شامل ہیں۔ کسی مخصوص خفیہ جگہ بیٹھ کر پولنگ بیگ کھولنا اور انتخابی عمل میں اپنی پسند کے امیدوار یا پارٹی کو جتوانے کے لئے بیگ میں اصل کے بجائے ٹمپرڈ نتائج بھر دینا، یہ سب پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قلات بس سانحہ :’’ دہشتگردوں نے اندھا دھند فائرنگ کی ، ہمارے 3 بھائی شہید ہو گئے‘‘قوال ندیم صابری اور مسافروں کے تاثرات
ماضی کی مثالیں
1970ء کے الیکشنز کے بعد کی تاریخ میرے مؤقف کی حمایت میں کھلی دلیل ہے۔ اس کے بعد کے الیکشنز بھی کسی صورت شفاف نہیں قرار دئیے جا سکتے۔ ایسے ہی نتائج بلدیاتی انتخابات کے لئے بھی ہیں لیکن یہ صرف ضلع کونسلوں اور میئر کے انتخابات تک ہی محدود ہیں۔ اس ملک میں شاید سبھی داؤ کے چکر میں رہتے ہیں، ریہڑی بان سے دکان دار تک، افسر سے ماتحت تک سبھی۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہوگی، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا اعلان
ایماندار لوگوں کی تلاش
وقت نے ایماندار اور غیرت والے لوگوں کی تعداد گھٹا کر آٹے میں نمک کے برابر کر دی ہے۔ یہاں صرف ضمیر فروشوں کی منڈی ہے، بس کوئی صحیح دام لگانے والا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: سبق کیوں یاد نہیں کیا۔۔۔ نجی سکول کے استاد کا پانچویں جماعت کے طالبعلم پر بدترین تشدد
کہانی کا اختتام
ایک اور سر پھیرے کی داستان: گوجرانوالہ میں میرا دوران ملازمت کا واقعہ، جہاں عبدالقیوم طاہر، ایس ڈی او (ہائی ویز)، ایک دبنگ افسر تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی ساری سرکاری نوکری میں کوئی کورٹ کیس نہیں ہارا اور ہمیشہ حق کی فتح دیکھی۔ یہ سچائی اور اللہ کی کرم نوازی تھی کہ وہ اپنے عہدے پر پہنچے۔
کتاب کے حقوق
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








