سیاسی تقسیم، مخصوص بیانیہ تھوپنے کی روش، گروہی میڈیا۔۔؟ قوم کو خود اپنا چراغ جلانا ہوگا
تحریر کا مقدمہ
تحریر: سلیم خان
ہیوسٹن، (ٹیکساس) امریکہ
یہ بھی پڑھیں: گھر میں کام کرنے والی نوکرانی نے 2 ساتھیوں کے ساتھ مل کر 8 تولے سونا اور 3 لاکھ روپے کے پرائز بانڈ چوری کر لئے،ملزمان گرفتار
میڈیا کا کردار
ہم سب جانتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ میڈیا معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے۔ وہ آئینہ جو نہ صرف عوام کو ان کی حقیقت دکھاتا ہے بلکہ ریاست کو بھی اس کی کارکردگی کا عکس دکھاتا ہے۔ مگر جب یہی آئینہ دھندلا ہو جائے، جان بوجھ کر دھواں چھوڑے یا اسے دھندلانے پر مجبور کر دیا جائے تو سچائی محض ایک افسانہ بن کر رہ جاتی ہے۔ پاکستان میں میڈیا کے حالیہ حالات پر نظر ڈالیں تو یہی سوال ذہن میں ابھرتا ہے: کیا ہمارا میڈیا واقعی آئینہ ہے یا صرف دھواں؟
یہ بھی پڑھیں: انوشکا شرما اور ویرات کوہلی نے لندن منتقل ہونے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اصل وجہ سامنے آگئی۔
بین الاقوامی میڈیا کا معیار
بین الاقوامی میڈیا کو دیکھا جائے تو بی بی سی، الجزیرہ، نیویارک ٹائمز، گارڈین اور ڈی ڈبلیو جیسے ادارے صحافت کے سنجیدہ اصولوں پر کاربند نظر آتے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹنگ، ادارتی آزادی اور خبر کی دیانتداری ان اداروں کا سرمایہ ہے۔ ان کے ہاں ''ریٹنگ'' کی دوڑ سے زیادہ اہمیت خبر کی صداقت کو دی جاتی ہے۔ صحافی نہ صرف حکومتوں کو سوال کے کٹہرے میں لاتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق، ماحولیاتی بحران اور جمہوری اقدار کی پاسداری کے علمبردار بھی بنے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں ایک مرتبہ پھر توسیع کردی گئی
پاکستانی میڈیا کی حالت
اس کے برعکس پاکستانی میڈیا کا حال نہایت افسوسناک ہے۔ ایک جانب شدید سیاسی تقسیم نے میڈیا کو مکمل طور پر گروہی بنا دیا ہے اور دوسری جانب کاروباری مفادات نے صحافت کو منافع بخش صنعت تو بنا دیا ہے، مگر خبر کی روح کو دفن کر دیا ہے۔ نیوز چینلز پر خبریں کم اور چیخنے والے ٹاک شوز زیادہ نظر آتے ہیں، جہاں دلیل کی جگہ آواز بلند کرنا معیار سمجھا جاتا ہے۔ ناظرین کو سچ دکھانے کے بجائے، مخصوص بیانیہ تھوپنے کی روش اختیار کی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کامیاب مذاکرات کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کا 3 روز سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا
صحافیوں کی آزادی کا مسئلہ
میڈیا کی آزادی کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی علامت سمجھی جاتی ہے، لیکن پاکستان میں صحافیوں پر دباؤ، سنسرشپ اور ادارتی مداخلتیں ایک معمول بن چکی ہیں۔ متعدد صحافی یا تو خود ساختہ جلاوطنی پر مجبور ہوئے یا انہیں جسمانی، ذہنی اور مالی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ایسا ماحول جہاں سچ بولنے کی قیمت جان سے ادا کرنی پڑے، وہاں میڈیا آئینہ نہیں بلکہ دھواں ہی بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی اکثریت، اقلیت نہیں، ہم سب پاکستانی ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کیتھڈرل چرچ پہنچ گئیں، ’’مینارٹی کارڈ‘‘ تقسیم کیے۔
سوشل میڈیا کا اثر
پاکستانی عوام کی ایک بڑی اکثریت اب سوشل میڈیا سے متبادل معلومات حاصل کرنے لگی ہے، جہاں بظاہر آزادی نظر آتی ہے، لیکن وہاں بھی گمراہ کن اطلاعات اور جعلی خبروں کا طوفان برپا ہے۔ یوں سچائی عام انسان کی پہنچ سے دن بہ دن دور ہوتی جا رہی ہے.
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں جاری صہیونی سفاکیت، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اسلامی ممالک کے سربراہان کو خط بھیج دیا
صحافت کا اصل جوہر
صحافت کا اصل جوہر احتساب، حق گوئی، اور عوامی مفاد کی پاسداری ہے۔ اگر میڈیا اپنے اصل کردار سے منحرف ہو جائے، تو نہ صرف عوام الجھن کا شکار ہوتے ہیں بلکہ جمہوری ادارے بھی کمزور پڑتے ہیں۔ میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، مگر جب یہی ستون مصلحتوں، دباؤ یا مالی فائدوں کے نیچے دب جائے تو پوری عمارت لرزنے لگتی ہے.
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا آبی ذخائر بڑھانے کا صائب فیصلہ
ضرورت اور مستقبل کی راہ
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں صحافت کو پیشہ نہیں، فریضہ سمجھا جائے۔ ادارتی آزادی کو یقینی بنایا جائے، صحافیوں کو تحفظ دیا جائے اور ریٹنگ کی دوڑ سے نکل کر معیار کی طرف لوٹا جائے۔ بین الاقوامی میڈیا کے معیار سے سیکھنا صرف نقل نہیں، ایک ذمے داری ہے.
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں رہنے والی کاروباری اور سرمایہ کاروں نے امریکہ پر کڑی تنقید شروع کر دی ہے، بلومبرگ
خلاصہ
حالات و واقعات کے تناظر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر میڈیا آئینہ ہے تو اسے صاف اور سچا ہونا چاہیے، اور اگر وہ صرف دھواں ہے تو پھر سچائی کو تلاش کرنے کے لیے قوم کو خود اپنا چراغ جلانا ہوگا.
نوٹ
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








