سیاسی تقسیم، مخصوص بیانیہ تھوپنے کی روش، گروہی میڈیا۔۔؟ قوم کو خود اپنا چراغ جلانا ہوگا
تحریر کا مقدمہ
تحریر: سلیم خان
ہیوسٹن، (ٹیکساس) امریکہ
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمزبند رہے گی، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا منتخب ہونے کے بعد پہلا پیغام سامنے آگیا
میڈیا کا کردار
ہم سب جانتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ میڈیا معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے۔ وہ آئینہ جو نہ صرف عوام کو ان کی حقیقت دکھاتا ہے بلکہ ریاست کو بھی اس کی کارکردگی کا عکس دکھاتا ہے۔ مگر جب یہی آئینہ دھندلا ہو جائے، جان بوجھ کر دھواں چھوڑے یا اسے دھندلانے پر مجبور کر دیا جائے تو سچائی محض ایک افسانہ بن کر رہ جاتی ہے۔ پاکستان میں میڈیا کے حالیہ حالات پر نظر ڈالیں تو یہی سوال ذہن میں ابھرتا ہے: کیا ہمارا میڈیا واقعی آئینہ ہے یا صرف دھواں؟
یہ بھی پڑھیں: 14 گھنٹوں میں 101 مردوں سے تعلق قائم کرنے والی ماڈل کا ایک دن میں 1 ہزار مردوں کے ساتھ تعلق بنانے کا فیصلہ، والدین کا موقف بھی آگیا
بین الاقوامی میڈیا کا معیار
بین الاقوامی میڈیا کو دیکھا جائے تو بی بی سی، الجزیرہ، نیویارک ٹائمز، گارڈین اور ڈی ڈبلیو جیسے ادارے صحافت کے سنجیدہ اصولوں پر کاربند نظر آتے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹنگ، ادارتی آزادی اور خبر کی دیانتداری ان اداروں کا سرمایہ ہے۔ ان کے ہاں ''ریٹنگ'' کی دوڑ سے زیادہ اہمیت خبر کی صداقت کو دی جاتی ہے۔ صحافی نہ صرف حکومتوں کو سوال کے کٹہرے میں لاتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق، ماحولیاتی بحران اور جمہوری اقدار کی پاسداری کے علمبردار بھی بنے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وہ بڑے سلجھے ہوئے، سادہ اور جہاں دیدہ انسان تھے، سفید کرتا لاچہ پہنتے، معمولی تعلیم کے باوجود سیانی گفتگو کرتے، ان کی محفل میں سیکھنے کو بہت کچھ ہوتا
پاکستانی میڈیا کی حالت
اس کے برعکس پاکستانی میڈیا کا حال نہایت افسوسناک ہے۔ ایک جانب شدید سیاسی تقسیم نے میڈیا کو مکمل طور پر گروہی بنا دیا ہے اور دوسری جانب کاروباری مفادات نے صحافت کو منافع بخش صنعت تو بنا دیا ہے، مگر خبر کی روح کو دفن کر دیا ہے۔ نیوز چینلز پر خبریں کم اور چیخنے والے ٹاک شوز زیادہ نظر آتے ہیں، جہاں دلیل کی جگہ آواز بلند کرنا معیار سمجھا جاتا ہے۔ ناظرین کو سچ دکھانے کے بجائے، مخصوص بیانیہ تھوپنے کی روش اختیار کی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 129 ضمنی الیکشن، حماد اظہر کے کاغذاتِ نامزدگی مشروط طور پر منظور
صحافیوں کی آزادی کا مسئلہ
میڈیا کی آزادی کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی علامت سمجھی جاتی ہے، لیکن پاکستان میں صحافیوں پر دباؤ، سنسرشپ اور ادارتی مداخلتیں ایک معمول بن چکی ہیں۔ متعدد صحافی یا تو خود ساختہ جلاوطنی پر مجبور ہوئے یا انہیں جسمانی، ذہنی اور مالی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ایسا ماحول جہاں سچ بولنے کی قیمت جان سے ادا کرنی پڑے، وہاں میڈیا آئینہ نہیں بلکہ دھواں ہی بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کا شکریہ کہ اس نے ایک ایڈونچر سے پوری پاکستانی قوم کو یکجا کردیا: مصطفیٰ کمال
سوشل میڈیا کا اثر
پاکستانی عوام کی ایک بڑی اکثریت اب سوشل میڈیا سے متبادل معلومات حاصل کرنے لگی ہے، جہاں بظاہر آزادی نظر آتی ہے، لیکن وہاں بھی گمراہ کن اطلاعات اور جعلی خبروں کا طوفان برپا ہے۔ یوں سچائی عام انسان کی پہنچ سے دن بہ دن دور ہوتی جا رہی ہے.
یہ بھی پڑھیں: صدر ولادیمیر پیوٹن سے دو گھنٹے طویل کال مکمل، روس اور یوکرین فوری جنگ بندی پر مذاکرات کا آغاز کریں گے: امریکی صدر کا اعلان
صحافت کا اصل جوہر
صحافت کا اصل جوہر احتساب، حق گوئی، اور عوامی مفاد کی پاسداری ہے۔ اگر میڈیا اپنے اصل کردار سے منحرف ہو جائے، تو نہ صرف عوام الجھن کا شکار ہوتے ہیں بلکہ جمہوری ادارے بھی کمزور پڑتے ہیں۔ میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، مگر جب یہی ستون مصلحتوں، دباؤ یا مالی فائدوں کے نیچے دب جائے تو پوری عمارت لرزنے لگتی ہے.
یہ بھی پڑھیں: دیر بالا میں بھیڑ بکریوں کی لڑائی پر پولیس نے انوکھا مقدمہ درج کر لیا
ضرورت اور مستقبل کی راہ
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں صحافت کو پیشہ نہیں، فریضہ سمجھا جائے۔ ادارتی آزادی کو یقینی بنایا جائے، صحافیوں کو تحفظ دیا جائے اور ریٹنگ کی دوڑ سے نکل کر معیار کی طرف لوٹا جائے۔ بین الاقوامی میڈیا کے معیار سے سیکھنا صرف نقل نہیں، ایک ذمے داری ہے.
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کے دوران 17 اموات، رپورٹ ہائیکورٹ میں جمع
خلاصہ
حالات و واقعات کے تناظر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر میڈیا آئینہ ہے تو اسے صاف اور سچا ہونا چاہیے، اور اگر وہ صرف دھواں ہے تو پھر سچائی کو تلاش کرنے کے لیے قوم کو خود اپنا چراغ جلانا ہوگا.
نوٹ
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








