سوات میں مدرسے کے اساتذہ کا وحشیانہ تشدد، 14سالہ طالبعلم جاں بحق، تفتیش شروع
افسوسناک واقعہ
سوات (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے گاؤں چالیار میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں مدرسے میں زیرِ تعلیم 14 سالہ طالبعلم فرحان مبینہ طور پر اپنے اساتذہ کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بن کر جاں بحق ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق اہلیہ کے الزامات پر عماد وسیم کا جوابی وار، قانونی نوٹس بھیج دیا، شواہد کے ساتھ عدالت جانے کا اعلان
قانونی کارروائی
فرحان کی لاش کو قانونی کارروائی کے لیے خوازہ خیلہ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مدرسے کے 2 اساتذہ کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اصولوں کی پاسداری مریم نواز کے عزم کا امتحان
مقامی و انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل
مقامی آبادی اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے ایسے واقعات کو دینی نظام تعلیم کو بدنام کرنے کے لیے اچھالا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور اسرائیل کے درمیان ویسا ہی معاہدہ ہوگا جیسا پاکستان اور بھارت کے درمیان کرایا، ڈونلڈ ٹرمپ
سوالات اور چیلنجز
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایسے واقعات پر پردہ ڈالا جائے گا، تو کیا اس نظام کی ساکھ بچ جائے گی یا مزید بگڑ جائے گی؟ کیا بچوں پر ظلم روا رکھنا کسی بھی طور قابلِ برداشت ہے؟
احتساب کی ضرورت
فرحان اب ہم میں نہیں رہا، لیکن اگر ہم واقعی اس کے خون کے قرض دار ہیں، تو ہمیں اس واقعے کو مثال بنانا ہوگا۔ انصاف صرف گرفتاری سے نہیں، بلکہ اس سوچ کی جڑیں کاٹنے سے قائم ہوگا جو استاد کو ظالم، اور طالبعلم کو بے زبان بنا دیتا ہے۔








