ترکی کا شام کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف براہ راست مداخلت کا اعلان
ترکی کی شام میں مداخلت کی وارننگ
انقرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترکی نے خبردار کیا ہے کہ وہ شام کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف براہ راست مداخلت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: احتجاج کے دوران شہید اہلکاروں کی نمازجنازہ چکلالہ گیریژن میں ادا کر دی گئی ، وزیر اعظم اور آرمی چیف کی بھی شرکت
جنوبی شام میں جھڑپوں کا پس منظر
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق ترک وزیر خارجہ حقان فدان نے منگل کے روز انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی شام میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد اگر کوئی گروہ خودمختاری حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو ترکی اسے روکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پنج شیر میں ٹارگٹڈ آپریشن، این آر ایف کا طالبان چیف آف اسٹاف سمیت 17 ارکان ہلاک کرنے کا دعویٰ
اسرائیل پر تنقید
ان کا کہنا تھا کہ شام کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کو ترکی روکنے کے لیے مداخلت کرے گا، اور اس تناظر میں اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ترکی کے مطابق اسرائیل شام میں عدم استحکام پیدا کر کے اسے تقسیم کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افواج پاکستان نے بھارت کو ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا: وزیر اعظم
اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت
ترکی نے گزشتہ ہفتے دمشق پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت کی ہے اور ان حملوں کو شام میں امن اور سلامتی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ترکی حکام کا ماننا ہے کہ جنوبی شام کے صوبہ سویدہ میں دروز جنگجوؤں اور بدو قبائل کے درمیان جھڑپیں بھی اسرائیلی پالیسی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پورے خطے کو غیر مستحکم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے، سفارتی تعلقات بڑھانے کو تیار ہیں، اسحاق ڈار
نیٹو رکن کی حیثیت سے ترکی کی حمایت
ترکی نیٹو کا رکن ملک ہونے کے باوجود شام کی نئی حکومت کی حمایت کرتا ہے اور اس نے دروز اور بدو گروہوں کے درمیان فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے سیاست میں باضابطہ انٹری دے دی، نجی نیوز چینل کا دعویٰ
آنے والے خطرات
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل شام کو کمزور اور غیر مستحکم بنا کر خطے کے لیے بوجھ بنانا چاہتا ہے، جبکہ کرد ملیشیا YPG اس بدامنی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
استحکام کے خطرات
انہوں نے کہا کہ شام میں موجود گروہوں کو موجودہ بدامنی کو خودمختاری یا آزادی حاصل کرنے کے لیے موقع نہیں سمجھنا چاہیے، ورنہ انہیں بڑی اسٹریٹیجک تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق اس راستے کا کوئی اختتام نہیں۔








