راشد نصیر کا یو ٹیوبر عادل راجہ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ، دوسرے دن کی سماعت
بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کا ہتک عزت مقدمہ
لندن (مجتبیٰ علی شاہ) - لندن ہائی کورٹ میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کے یو ٹیوبر عادل راجہ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ، دوسرے دن کی سماعت کا آغاز ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: بگرام ایئربیس کے لیے اگلے 20 سال جنگ لڑنے کو تیار ہیں، افغان حکومت کا ٹرمپ کی دھمکیوں پر جواب
سماعت کا آغاز
تفصیل کے مطابق سماعت کا آغاز بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر پر جرح سے ہوا جو مقدمہ کے پہلے دن سے جاری تھی۔ عادل راجہ کے وکیل نے متعدد سوالات کیے۔
یہ بھی پڑھیں: ترمیم کا مقصد فیلڈ مارشل کے عہدے کو تحفظ دینا اور فیصلہ سازی میں ان کا کردار بڑھانا ہے، محسن بیگ
دھمکیاں اور تصاویر کا انکشاف
بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر نے بتایا کہ عادل راجہ کی ٹوئٹس کے سبب انھیں اور ان کے خاندان کے افراد کو فون پر دھمکیاں دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
مقدمہ کی تفصیلات
انہوں نے موقف اپنایا کہ میرے بیٹے کی تصویر اور اس کی امریکا میں یونیورسٹی کا پتہ بھی شائع کیا گیا۔ نصیر نے مزید بتایا کہ مقدمہ کے تمام اخراجات وہ خود برداشت کر رہے ہیں۔
تحقیقات کا نتیجہ
راشد نصیر نے بیان دیا کہ پنجاب میں انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی فوج میں اعلیٰ سطح پر تحقیقات کے بعد مجھے بے گناہ قرار دیا گیا۔








