زرعی ترقیاتی بینک میں کرپشن، چوری اور خورد برد کے انکشافات
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس نوید قمر کی زیرصدارت ہوا، جس میں زرعی ترقیاتی بینک کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ بینک میں کرپشن، قرضوں کی عدم واپسی، دھوکے اور اعتراضات کی کثرت پر کمیٹی کے ارکان حیران ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے نے افسران کے لیے دوران ڈیوٹی یونیفارم پہننا لازمی قرار دے دیا
کمیٹی کے ارکان کا ردعمل
رکن کمیٹی منزہ حسن نے کہا کہ ہر دوسرا اعتراض کرپشن، چوری اور خوردبرد کا ہے، بینک کیا کررہا ہے، جس پر زرعی ترقیاتی بینک کے صدر نے کہا کہ ہم نے معاملات کو بہتر کرلیا ہے۔ ہم نے نئے افسروں کو بھرتی کیا ہے، پہلے والے میٹرک پاس تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب بحالی پروگرام کے تحت 6 ارب 39 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ہیں، مریم اورنگزیب
تعلیمی معیار اور کرپشن
منزہ حسن نے جواب دیا کہ آپ اگر پڑھے لکھوں کو لارہے ہیں تو جو کرپشن کرتا ہے وہ عام بیوقوف آدمی نہیں کرسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: پشین میں خفیہ معلومات پر سی ٹی ڈی کا آپریشن، فائرنگ کے تبادلے میں 9 مبینہ حملہ آور ہلاک
نوید قمر کی تنقید
نوید قمر نے کہا کہ آپ جن لوگوں کو پہلے قرض دیتے ہیں، انہی کو آئندہ بھی دیتے ہیں، نیا کچھ نہیں ہے، جس پر بینک کے صدر نے بتایا کہ نئے کسانوں کو قرضے دیے جاتے ہیں۔ نوید قمر نے کہا کہ ہمیں پتا ہے، یہ سب فراڈ ہے اسے رکنا چاہیے۔
چوری کے واقعات اور ایف آئی آر
ایکسپریس نیوز کے مطابق دوران اجلاس نوید قمر نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بینک میں 2023 میں چوری ہوئی اور اب 2025 تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ زرعی ترقیاتی بینک نے 2021 میں ایک کیس پکڑا اور 2022 میں ایف آئی اے کو دیا لیکن کچھ نہیں ہو۔








