پنجاب کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی و نجکاری کا اجلاس، اہم فیصلے
اجلاس کی تفصیلات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خزانہ پنجاب میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کی زیر صدارت کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی و نجکاری کا اکیسواں اجلاس آج سول سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر قانون، وزیر اطلاعات اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹری صاحبان نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: جائیداد کی تقسیم کا وہ تنازع جس کی شروعات بیٹے کے اپنے باپ کے خلاف عدالت جانے سے ہوئی
قانون سازی پر غور
اجلاس میں صوبائی محکموں کی جانب سے عوامی بہبود کے حوالے سے مختلف شعبوں میں قانون سازی اور موجودہ پالیسیوں پر نظر ثانی کی سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں پنجاب میں بچوں کی ملازمت پر پابندی کے مجوزہ قواعد 2024ء اور آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ رولز 2024ء جیسے اہم مسودات شامل تھے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ایسے قوانین کی تیاری میں بین الاقوامی معیارات، انسانی حقوق، اور عملدرآمد کے قابل بھروسا میکانزم کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں شدید دھند کے باعث ریڈ اور یلو الرٹ جاری
باہمی تعاون کے معاہدے
اجلاس میں فیصل آباد اور قازقستان کے شہر شیمکینٹ کے درمیان باہمی تعاون اور شہر بہ شہر اشترک (Twinning) کے معاہدے پر دستخط کی منظوری کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اس معاہدے کو باہمی تعلقات کو فروغ دینے اور بین الاقوامی سطح پر پنجاب کے مؤثر تعارف کے لیے خوش آئند قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کا T20 ورلڈ کپ کے لیے ابتدائی سکواڈ کا اعلان
پٹرول پمپس کے قیام کی پالیسی
اس کے علاوہ اجلاس میں صوبے میں نئے پٹرول پمپس کے قیام کے لیے این او سی کے اجراء سے متعلق پالیسی کی بھی منظوری دی گئی۔
وزیر خزانہ کا پیغام
وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کی قائمہ کمیٹیاں قانون سازی اور پالیسی سازی کے عمل میں شفافیت اور فعالیت کو فروغ دینے کے لیے نہایت مؤثر فورم ہیں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ عوامی فلاح کے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مجوزہ پالیسی اقدامات کو حتمی شکل دیں اور جلد کابینہ سے منظوری کے لیے پیش کریں۔








