پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، اسحاق ڈار
پاکستان اور بھارت کے مذاکرات
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہاہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات بامعنی ہونے چاہئیں۔ پاکستان سیاسی گروپنگ یاکسی بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔
یہ بھی پڑھیں: تنویر سنگھا بھارت کے خلاف آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل
بین الاقوامی تعلقات
انہوں نے کہا کہ چین سے اسلحہ خریدنے کا مقصد امریکہ سے تعلقات بگاڑنا نہیں ہے۔ پاکستان کسی ایک ملک کیساتھ تعلقات کو دوسرے ملک کی عینک سے نہیں دیکھتا۔ مقبوضہ کشمیر کو حق خودارایت دینا چاہیے، مقبوضہ کشمیر کا تنازع یو این چارٹر کے مطابق اب تک حل نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پاك فوج کی میزائل اسٹرائیک، ایل او سی پر دودنیال سیکٹر میں دشمن کی پوسٹ اڑا دی
امریکی تھنک ٹینک سے خطاب
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات مفید رہی۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ ٹریڈ چاہتا ہے ایڈ نہیں۔ اس ملاقات میں مشترکہ شراکت داری پر زوردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 6 بار ایسویسییشنز کے صدور و جنرل سیکرٹریز کی وزیر قانون پنجاب اور خالد رانجھا سے ملاقات
پاکستانی معیشت اور سکیورٹی چیلنجز
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سطح پر حالات بدل رہے ہیں، عالمی معیشت دباؤ میں ہے، اور دہشت گردی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف نبردآزما ہے اور ایک امن پسند ایٹمی ملک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا مستونگ گرلز ہائی سکول بم دھماکہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس
کشمیر کا مسئلہ
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر اہم تنازع ہے اور پاکستان بھارت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف کام کرنے کو تیار ہے۔ پاکستان نیوٹرل مقام پر بھارت کیساتھ بات چیت کا منتظر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں ووٹ دینے کی عمر 16 سال کرنے کا اعلان
علاقائی صورتحال
انہوں نے کہا کہ بیت المقدس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے اور دو ریاستی حل ہی امن کا واحد راستہ ہے۔ پاکستان مستحکم افغانستان کے مفاد میں ہے اور چین اور امریکا کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 213 عمر کوٹ کے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی کامیاب
پاکستان کی خارجہ پالیسی
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ چند دن میں ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے 2014 کے دھرنے سے معیشت متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں شدید گرمی، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بارش کی پیشگوئی
قانونی امور اور معیشت
انہوں نے کہا کہ سانحہ 9 مئی پر قانون اپنا راستہ لے گا اور مقبول سیاسی لیڈر کا مطلب اسلحہ اُٹھانا یا قانون ہاتھ میں لینا نہیں ہے۔
افغان حکومت اور ہمسائیگی کے تعلقات
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم کسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے اور پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کوئی تنازع نہیں چاہتا۔ افغان حکومت کو تسلیم کرنا روس کا اپنا فیصلہ ہے۔








