پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، اسحاق ڈار
پاکستان اور بھارت کے مذاکرات
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہاہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات بامعنی ہونے چاہئیں۔ پاکستان سیاسی گروپنگ یاکسی بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔
یہ بھی پڑھیں: سٹاک مارکیٹ میں تیزی برقرار، 100 انڈیکس آج بھی ایک لاکھ سے متجاوز
بین الاقوامی تعلقات
انہوں نے کہا کہ چین سے اسلحہ خریدنے کا مقصد امریکہ سے تعلقات بگاڑنا نہیں ہے۔ پاکستان کسی ایک ملک کیساتھ تعلقات کو دوسرے ملک کی عینک سے نہیں دیکھتا۔ مقبوضہ کشمیر کو حق خودارایت دینا چاہیے، مقبوضہ کشمیر کا تنازع یو این چارٹر کے مطابق اب تک حل نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک کا متعدد فیچرز پیش کرنے کا اعلان
امریکی تھنک ٹینک سے خطاب
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات مفید رہی۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ ٹریڈ چاہتا ہے ایڈ نہیں۔ اس ملاقات میں مشترکہ شراکت داری پر زوردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن پر حملہ، بھارتی نژاد ملزم عدالت میں پیش
پاکستانی معیشت اور سکیورٹی چیلنجز
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سطح پر حالات بدل رہے ہیں، عالمی معیشت دباؤ میں ہے، اور دہشت گردی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف نبردآزما ہے اور ایک امن پسند ایٹمی ملک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کے بیان کے بعد بنگلادیشی کرکٹرز کی بائیکاٹ کی دھمکی
کشمیر کا مسئلہ
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر اہم تنازع ہے اور پاکستان بھارت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف کام کرنے کو تیار ہے۔ پاکستان نیوٹرل مقام پر بھارت کیساتھ بات چیت کا منتظر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 15 سال کی تھی جب ٹرمپ نے زیادتی کی کوشش کی، نئی ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر پر خاتون سے زیادتی کا الزام
علاقائی صورتحال
انہوں نے کہا کہ بیت المقدس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے اور دو ریاستی حل ہی امن کا واحد راستہ ہے۔ پاکستان مستحکم افغانستان کے مفاد میں ہے اور چین اور امریکا کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش، 15 اعلیٰ فوجی افسران جبری گمشدگیوں اور قتل کے الزام میں گرفتار
پاکستان کی خارجہ پالیسی
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ چند دن میں ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے 2014 کے دھرنے سے معیشت متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں حکومت کے حوالے سے 2 بڑی جماعتوں میں کیا کوئی ’’معاہدہ‘‘ ہوا تھا۔؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔
قانونی امور اور معیشت
انہوں نے کہا کہ سانحہ 9 مئی پر قانون اپنا راستہ لے گا اور مقبول سیاسی لیڈر کا مطلب اسلحہ اُٹھانا یا قانون ہاتھ میں لینا نہیں ہے۔
افغان حکومت اور ہمسائیگی کے تعلقات
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم کسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے اور پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کوئی تنازع نہیں چاہتا۔ افغان حکومت کو تسلیم کرنا روس کا اپنا فیصلہ ہے۔








