اماں بڑی کوٹھی میں مقیم تھیں، دیسی گھی میں کھانے بناتیں، میری بیگم سے کہتیں “خبردار کیجیے! اگر میرے پتر کا خیال نہ کیا تو یہاں نہ آئیں”
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 240
یہ بھی پڑھیں: لنڈے کے کپڑوں پر 200 روپے فی کلو ٹیکس پر تاجر بلبلا اٹھے
بڑی کوٹھی کی بھاری بھرکم مکین
دھوریہ گرلز ہائی سکول نے میری بیگم کو سالانہ تقریب انعامات کے موقع پر بطور مہمان خصوصی مدعو کیا لیکن وہ مصروفیت کی وجہ سے نہ جا سکی۔ سچی بات تو یہ تھی کہ مصروفیت کم اور جھجک زیادہ تھی۔ کھاریاں چھاؤنی میں میرے سب انجینئر ممتاز عزیز کی ہمشیرہ اور صوفی نذیر کی پھوپھی زاد بہن “اماں” 2 کنال کی بڑی کوٹھی کی بھاری بھرکم مقیم تھیں جہاں وہ اپنے بیمار خاوند بشیر احمد پسوال کے ساتھ رہتی تھیں۔ وہ پٹواری ریٹائر ہوئے تھے۔ ان کے دو نوں بیٹے نیویارک رہتے تھے۔ مجھے وہ بچوں کی طرح چاہتی تھیں۔ کبھی ان کے گھر جاتا تو وہ اپنے ہاتھوں سے دیسی گھی میں کھانے بناتیں۔ میری بیگم سے کہتیں “خبردار کڑیئے! جے میرے پتر دا خیال نہ کیتا تے ایتے نہ آویں۔” اس فقرے کے باوجود وہ اس سے بھی بہت پیار کرتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصر ترکوں کے زیر اثر بھی رہا، بہت سارے ترک باشندے ہجرت کرکے یہیں آباد ہوگئے اور اپنے ساتھ خوبصورت دلکش آنکھیں لانا نہیں بھولے
پشاور شاپنگ کی یادیں
ہمارے ساتھ پشاور شاپنگ کے لئے جاتیں تو لگتا سارا پشاور ہی خرید لائی ہوں۔ ایک روز انہوں نے فون کرکے مجھے کہا “پتر! او شانی دے میاں نوں پولس پھڑ کر لے گئی اے۔ توں وی شانی نوں ملیا ہویا ایں.” (یہ بہت خوبصورت سید زادی اماں کی ہمسائی تھی۔ انہی کے گھر ایک دو بار ملاقات ہو ئی تھی۔) “پتر اے دے خاوند نوں کسی طرح سے چھڑا۔ میں اینوں تیر ے دفتر بھیج ری آں۔” تھوڑی دیر میں وہ خاتون دفتر آ گئیں۔ تب تک میں عشرت علی صاحب سے اس سلسلے میں بات کر چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
ایک خاص ملاقات
اس روز میرے دفتر آئی تو اس کے قد بت اور نین نقش دیکھ کر میں مبہوت ہی ہو گیا تھا۔ (اماں کے ڈر کے بغیر جو اسے دیکھا تھا شاید۔) خیر اس نے بتایا کہ اس کے میاں سے اس کی پسند کی شادی تھی اور میری ساس کو یہ شادی بالکل پسند نہ تھی اسی کی شکایت پر ہی میرے میاں کل رات سے کینٹ تھانے میں ہیں۔ خیر تھوڑی دیر میں مجھے اے سی کا فون آ گیابولے؛ “میری جان! گرفتار بندہ گھر پہنچ گیا ہے।” میں نے اس خاتون کو بتایا کہ اس کا خاوند گھر پہنچ چکا ہے۔ وہ بڑا خوش ہوئی، شکریہ ادا کیا۔ میں نے اسے کہا؛ “شکریہ آپ اماں کا ادا کریں جن کے حکم کی تعمیل میرا فرض تھا۔ جاتے ہو ئے آپ اے سی صاحب کا شکریہ ادا کرتی جائیں۔” ہم عشرت صاحب کے دفتر گئے۔ خاتون نے ان کا شکریہ ادا کیا اور گھر چلی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے اختر مینگل کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخاب کے شیڈول کا اعلان کر دیا
اماں کی دعا اور اختتام
وہ گئی تو اے سی مجھے بولے؛ “میری جان! اے تے شکریہ تو زیادہ آلی خاتون سی۔ اے دے نال اک ملاقات ہور ہونی چائیدی اے.” سید زادی کے خاوند کی رہائی سے اماں کا مان رہ گیا اور میرے لئے ان کی دعاؤں میں اور اضافہ ہو گیا تھا۔ شام کو انہوں نے مجھے پر تکلف کھانا کھلایا جس میں وہ میاں بیوی بھی مدعو تھے۔ اپنے خاوند کی وفات کے بعد اماں اپنے بیٹے عابد کے ہمراہ امریکہ چلی گئیں۔ کچھ عرصہ اپنے دوسرے بیٹے رؤف (رؤف سے آج بھی میرے اچھے مراسم ہیں۔ وہ بھی شاندار ہنس مکھ انسان ہے) کے پاس atlanta رہیں۔ نیو یارک میں ہی وفات پائی اور وہیں دفن ہوئیں۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے اور جنت میں اعلیٰ مقام دے۔ آمین۔ اب اماں ایسی خواتین ہمارے معاشرے سے ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔
کتاب کی معلومات
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








