غزہ، اے غزہ۔۔۔
غزہ کی حالت
سن غزہ
تیرے گالوں کا غازہ
لہو ہو گیا
پاؤں میں لٹ گیا
خاک رو ہو گیا
یہ بھی پڑھیں: مسلسل ایمانداری سے ہی ملک میں چیزوں کو درست سمت لے جایا جا سکتا ہے، اس کیلیے جبر مسلسل کی ضرورت، بہادر دل اور تازہ دماغ چاہیے
صیہونیوں کا ظلم
تیری پٹی پر لاکھوں صیہونی پرند
دندناتے ہوئے
غل مچاتے ہوئے
تیرے نازک بدن کو بھنبھوڑے ہوئے
قہقہے وحشیانہ لگاتے ہوئے
رقص ابلیس پر تھرتھراتے ہوئے
یہ جنونی پرند
جن کی چونچیں غلاظت نہائی ہوئی
جن کی روحیں ہیں فضلات کھائی ہوئی
جن کے ننگے بدن پہ نہیں ہے شرف
جن کی تولید میں نہ حلالی تخم
تیرا رونا بجا
امہ مسلمہ پہ یہ گریہ ترا
تیرا حق ہے غزہ
یہ تیرے دین کے امت._ دعویدار
یہ بھی پڑھیں: لاہور گیریژن پولو گراؤنڈ کے زیراہتمام 10واں بیٹل ایکس پولوکپ 2024 جاری
حیا کا فقدان
کہیں چھوڑ آئے حیاؤں کو اپنی
کہاں پہ ہیں گروی
کہاں پہ ہے ان کا یہ دعویٰ عظیم
کہ وہ ہیں اسلام کا ایک قلعہ
کہاں پہ ہے ملک خداداد رہتا
یہ بھی پڑھیں: آذربائیجان کے یومِ فتح کی مرکزی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شرکت
خادمین سے بے حسی
کہاں پرہیں خادم شریفین اپنے
کہ ہاتھوں سے جن کے بنی تھیں پناہیں
حیا ہی نہیں آنکھ میں اب کسی کے
مگر اے غزہ،
سن لے تو بھی ذرا
تیری نہر- بہشت کا پانی
تیرے سر سبز کھیت کا کھانا
تجھے ہر طور ملنا ہے
مگر یہ جان لے اے سجدہ اول کی درخشندہ زمیں
تجھ کو یوم مبیں تک حالت کربل میں رہنا ہے
کلام
کلام: فرخندہ شمیم








