غزہ، اے غزہ۔۔۔
غزہ کی حالت
سن غزہ
تیرے گالوں کا غازہ
لہو ہو گیا
پاؤں میں لٹ گیا
خاک رو ہو گیا
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ایم این اے کا نوشہرہ میں گرڈ سٹیشن پر دھاوا
صیہونیوں کا ظلم
تیری پٹی پر لاکھوں صیہونی پرند
دندناتے ہوئے
غل مچاتے ہوئے
تیرے نازک بدن کو بھنبھوڑے ہوئے
قہقہے وحشیانہ لگاتے ہوئے
رقص ابلیس پر تھرتھراتے ہوئے
یہ جنونی پرند
جن کی چونچیں غلاظت نہائی ہوئی
جن کی روحیں ہیں فضلات کھائی ہوئی
جن کے ننگے بدن پہ نہیں ہے شرف
جن کی تولید میں نہ حلالی تخم
تیرا رونا بجا
امہ مسلمہ پہ یہ گریہ ترا
تیرا حق ہے غزہ
یہ تیرے دین کے امت._ دعویدار
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ کیس ٹو: عمران خان اور بشریٰ بی بی پر آج پھر فرد جرم عائد نہ ہو سکی
حیا کا فقدان
کہیں چھوڑ آئے حیاؤں کو اپنی
کہاں پہ ہیں گروی
کہاں پہ ہے ان کا یہ دعویٰ عظیم
کہ وہ ہیں اسلام کا ایک قلعہ
کہاں پہ ہے ملک خداداد رہتا
یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ، 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور
خادمین سے بے حسی
کہاں پرہیں خادم شریفین اپنے
کہ ہاتھوں سے جن کے بنی تھیں پناہیں
حیا ہی نہیں آنکھ میں اب کسی کے
مگر اے غزہ،
سن لے تو بھی ذرا
تیری نہر- بہشت کا پانی
تیرے سر سبز کھیت کا کھانا
تجھے ہر طور ملنا ہے
مگر یہ جان لے اے سجدہ اول کی درخشندہ زمیں
تجھ کو یوم مبیں تک حالت کربل میں رہنا ہے
کلام
کلام: فرخندہ شمیم








