مودی سرکار پر ٹرمپ کا ایک اور کاری وار، 7 بھارتی کمپنیوں پر پابندی عائد
امریکی صدر کا بھارت کو دھچکا
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا، ایران سے تیل کی خفیہ تجارت کرنے والی بھارت میں قائم 7 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: جڑواں شہروں کے نان بائیوں اور تندور مالکان کا روٹی سرکاری قیمت پر فروخت کرنے سے انکار
ایران سے تیل کی آمدنی پر پابندیاں
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پھیلانے اور اپنے عوام کے استحصال کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سردی کی دستک، محکمہ موسمیات نے بارش کی پیشگوئی کردی
دنیا بھر کی کمپنیاں پابندیوں کے نشانے پر
ان سرگرمیوں میں سہولت کاری کرنے والی دنیا بھر کی 20 کمپنیوں پر سخت اقتصادی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، جن میں سے 7 کمپنیاں بھارت میں قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر کمیٹی جدہ کا بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال پر اظہار افسوس
مزید کارروائیاں
امریکی حکام کے مطابق ان کمپنیوں کے علاوہ 10 بحری جہازوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے جو ایرانی پیٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی نقل و حمل میں ملوث پائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا مبینہ منی لانڈرنگ، فراڈ پر سولر کمپنیوں پر 111 ارب روپے کا جرمانہ
بھارت پر ٹیکس اور جرمانے کا اعلان
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی صدر ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد درآمدی ٹیرف اور اضافی مالیاتی جرمانے کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے جنگ میں بھارت کے گرنے والے طیاروں کے پائلٹ کہاں گئے؟ انکشاف سامنے آگیا
ٹرمپ کا دو ٹوک بیان
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت دوستی کے لبادے میں تجارتی منافقت کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے اس حکومت کو قبول نہیں کرنا، علیمہ خان
امریکہ اور بھارت کے تجارتی تعلقات
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت کو ہم نے ہمیشہ اچھا دوست سمجھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے امریکا کے ساتھ غیر منصفانہ تجارت کی۔
ٹیکسوں کے بارے میں ٹرمپ کا موقف
اس کے ٹیرف ناقابلِ قبول حد تک بلند اور غیر مالیاتی رکاوٹیں انتہائی سخت ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت کو جواب دیا جائے۔








