مودی سرکار پر ٹرمپ کا ایک اور کاری وار، 7 بھارتی کمپنیوں پر پابندی عائد
امریکی صدر کا بھارت کو دھچکا
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا، ایران سے تیل کی خفیہ تجارت کرنے والی بھارت میں قائم 7 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 2 مارچ کی دوپہر 3 بجے طلب کر لیا
ایران سے تیل کی آمدنی پر پابندیاں
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پھیلانے اور اپنے عوام کے استحصال کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان میں مدرسے میں دھماکہ، 2بچے شہید ، 8زخمی
دنیا بھر کی کمپنیاں پابندیوں کے نشانے پر
ان سرگرمیوں میں سہولت کاری کرنے والی دنیا بھر کی 20 کمپنیوں پر سخت اقتصادی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، جن میں سے 7 کمپنیاں بھارت میں قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر دھماکہ: دھوئیں کے بادل چھٹنے کے بعد زمین پر بہت سے لوگ گرے پڑے نظر آئے۔
مزید کارروائیاں
امریکی حکام کے مطابق ان کمپنیوں کے علاوہ 10 بحری جہازوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے جو ایرانی پیٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی نقل و حمل میں ملوث پائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی سائنسدانوں نے مچھر جتنا چھوٹا ڈرون تیار کرلیا
بھارت پر ٹیکس اور جرمانے کا اعلان
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی صدر ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد درآمدی ٹیرف اور اضافی مالیاتی جرمانے کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: صوبائی دارالحکومت لاہور بدحالی کا شکار
ٹرمپ کا دو ٹوک بیان
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت دوستی کے لبادے میں تجارتی منافقت کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کا انعقاد کامیاب رہا، چینی سفیر
امریکہ اور بھارت کے تجارتی تعلقات
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت کو ہم نے ہمیشہ اچھا دوست سمجھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے امریکا کے ساتھ غیر منصفانہ تجارت کی۔
ٹیکسوں کے بارے میں ٹرمپ کا موقف
اس کے ٹیرف ناقابلِ قبول حد تک بلند اور غیر مالیاتی رکاوٹیں انتہائی سخت ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت کو جواب دیا جائے۔








