خاتون بڑے جج کے دفتر شکایت کے لیے پہنچی تو اونچی اونچی بولنے لگی: “اہی سی اہی سی جیٹرا رات میرے پیچھے گھر تکر آ یا سی” شور بڑھا تو ہم دفتر سے باہر آ گئے۔

مصنف

شہزاد احمد حمید

یہ بھی پڑھیں: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

قسط

246

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو اب جیل ملاقات کی بالکل اجازت نہیں اور مجمع اکٹھا کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی: عطا تارڑ

پہچان

چوہدری محمد ریاض (یہ چیالیانوالہ گجرات کے رہنے والے بڑے نامی اور ایماندار جج تھے۔) ڈسٹرکٹ سیشن جج گوجرانوالہ تھے۔ بھائی جان بوبی کے بہت اچھے دوست تھے اور کھاریاں میں میرے جاننے والے وسیم احمد (بینک کھاریاں کے منیجر) کے بہنوئی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں گدھوں کو ذبح کرنے کے لیے قصائی بیرونِ ملک سے بلوایا گیا تھا

الیکشن کی تیاری

انہیں الیکشن کے لئے ایک افسر کی ضرورت تھی جو الیکشن معمولات جانتا ہو۔ انہیں میرے اور بھائی جان بوبی کے رشتہ کا علم ہوا تو انہوں نے میری ڈیوٹی اپنے ساتھ بھی لگا لی۔ ان کا اسسٹنٹ گہرے سانولے رنگ کا محمد شہباز نامی سول جج تھا۔ میری ڈیوٹی سیشن جج صاحب کے ساتھ لگی تو شہباز نے خواہ مخواہ میرے ساتھ گاڑی چھنتی شروع کر دی۔ الیکشن کے ہر مرحلے پر سیشن جج صاحب کے عملے کو گائیڈ کرنے کی ذمہ داری اب میری تھی۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک نے پاکستان ترقیاتی اپ ڈیٹ رپورٹ 2025 جاری کردی

شہباز کی شکایت

ایک روز جج شہباز کسی خاتون ٹیچر کا پیچھا کرتے اس کے گھر تک پہنچ گیا۔ اگلے روز وہ بڑے جج کے دفتر شکایت کے لئے پہنچی تو اسے جج شہباز دکھائی دیا تو وہ اونچی اونچی بولنے لگی؛ "اہی سی۔۔۔ اہی سی۔۔۔ جیٹرا رات میرے پیچھے گھر تک آیا سی۔" شور بڑھا تو ڈسٹرکٹ جج اور ہم سب دفتر سے باہر آ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: آپ کا آج (جمعرات) کا دن ستاروں کی روشنی میں کیسا رہے گا ؟

جج کا کردار

چوہدری ریاض نے اس خاتون سے پوچھا؛ "بی بی! کیا بات ہے کیوں شور مچا رکھا ہے۔" اس نے ساری بات انہیں سنائی۔ وہ بولے؛ "میں اس کا بندوبست کرتا ہوں۔" دفتر آ کر اُسے بلایا، سر زنش کی اور مجھے کہنے لگے؛ "میرے حلقہ انتخاب کے تمام لیڈیز پولنگ سٹاف کی ڈیوٹی آپ لگاؤ گے۔" شہباز کو کہا؛ "سن لیا، مجھے کوئی شکایت نہ آئے۔" وہ بول تو کچھ نہیں سکتا تھا لیکن اس حکم کا اسے بڑا رنج تھا۔ خیر، حکم کی تعمیل میں وہ خاموش تو ہوا مگر جب بھی موقع ملتا تھوڑی بہت مداخلت کر لیتا۔

یہ بھی پڑھیں: عماد وسیم نے دوسری شادی کی تصدیق کردی

محبت کا آغاز

گوجرانوالہ میں الیکشن سٹاف کی ڈیوٹی کا کام آخری مراحل میں تھا کہ میں اور ریاض چائے پی کر واپس دفتر جا رہے تھے۔ راستے میں 2 خواتین ملیں جو سکول ٹیچر تھیں۔ تعارف ہوا یہ "حدیث خلجی" اور "رضیہ بٹ" تھیں۔ دونوں ہی مجسمہ حسن۔ الیکشن ڈیوٹی وہ اپنی مرضی کے سٹیشن پر کرنا چاہتی تھیں۔ ہم نے وعدہ کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد کے باپ اور بیٹے نے ایک ہی دن شادی کر کے نئی مثال قائم کردی

ریاض کی محبت

عین آخری وقت میں ان کے مرضی کے سٹیشن پر ڈیوٹی لگا دی۔ ان چند دنوں میں ہی ریاض رضیہ سے عشق کر بیٹھا۔ پہلی نظر کی محبت۔ بعد میں ریاض نے اپنی محبت سے پہلی بیوی کے ہوتے شادی کر لی لیکن خاندانی دباؤ میں آ کر اسے کچھ عرصہ بعد یہ رشتہ ختم کرنا پڑا تھا۔ حدیث خلجی مجھے اچھی لگی تھی۔ کچھ دوستی بھی رہی لیکن پھر یہ بھی ہواؤں میں کھو گئی اور میں گوجرانوالہ چھوڑ آیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 2205 ہو گئی، 3640 افراد زخمی ہیں: ہلال احمر سوسائٹی

الیکشن کا اختتام

اس زمانے میں الیکشن ڈیوٹی کے لئے پرزئیڈنگ افسر کو پانچ صد روپے، اسسٹنٹ پرزئیڈنگ افسر کو تین صد روپے جبکہ پولنگ افسر کو اڑھائی سو روپے ملتے تھے۔ اتنی قلیل رقم کے لئے سکولوں کے اساتذہ خاص طور پر خواتین اپنی مرضی کے سٹیشن پر ڈیوٹی کے لئے کوئی بھی قیمت دینے کو تیار رہتی تھیں۔ خیر یہ الیکشن خیریت سے گزر گیا۔ اب چند رپورٹس الیکشن کمیشن کو بھجوانے کے علاوہ کوئی کام نہ تھا، مگر یہ ذمہ داری تو جج صاحبان کی تھی لیکن رپورٹس ہم ہی تیار کرتے تھے۔ اب فراغت تھی۔ (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...