سفارتی اور معاشی کامیابیوں سے دفاعی تیاری تک، پاکستان خطے کی نئی ذمہ دار طاقت بن گیا، امریکی ٹیرف میں کمی سے کتنا فائدہ ہوگا؟ جانیے۔
پاکستان کی نئی ذمہ داری
لاہور (طیبہ بخاری سے) سفارتی اور معاشی کامیابیوں سے دفاعی تیاری تک، پاکستان خطے کی نئی ذمہ دار طاقت بن گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پروموشن کمیٹی کا اجلاس طلب، اہل افسران کو پروموٹ کیا جا رہا ہے: ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب
سفارتی اور اقتصادی ترقی
سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں جس دانشمندی، تدبر اور دور اندیشی کے ساتھ عالمی اور علاقائی سطح پر فیصلے کیے ہیں، ان کے مثبت نتائج اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی بحالی، سفارتی کامیابی اور علاقائی استحکام تسلیم کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حافظ طاہر اشرفی مشرق وسطیٰ اور مسلم ممالک میں مذہبی ہم آہنگی کے لیے کوآرڈینیٹر مقرر
تجارتی کامیابیاں
پاکستان کی معاشی سفارت کاری کے سب سے نمایاں اثرات میں سے ایک امریکہ کی جانب سے پاکستانی مصنوعات پر ٹیرف میں کمی ہے۔ امریکی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات پر عائد ٹیرف کو 29 فیصد سے کم کرکے 19 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے سالانہ ڈیڑھ سے 2 ارب ڈالر تک برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔ مزید یہ کہ مالی سال 25-2024ء میں پاکستان کی امریکہ کو برآمدات 6 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ درآمدات صرف 1.8 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی پورٹ ہونے والے 53 ہزار پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک
بین الاقوامی ساکھ کی بحالی
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجارتی توازن پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کی بحالی کا واضح ثبوت ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کے مقابلے میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی گئی رعایت اس بات کی علامت ہے کہ دنیا اب پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہاگ رات کو دلہن کی ادرک والی چائے نے گھر میں کہرام مچا دیا
علاقائی سلامتی میں کردار
معاشی کامیابی کے ساتھ ساتھ پاکستان نے علاقائی سلامتی اور انسدادِ دہشتگردی کے میدان میں بھی ایک ذمہ دار ریاست کا کردار نبھایا ہے۔ پاکستان نے صرف اپنے داخلی دشمنوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں نہیں کیں بلکہ خطے میں امن کے لیے بھی سرگرم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کارروائیاں تیز، مزید ۱۹۹۷۵ افراد گرفتار
عسکری اور سفارتی حکمت عملی
ذرائع کے مطابق معرکۂ حق میں کامیابی اور بھارت کے پروپیگنڈہ پر مبنی ’’آپریشن سندور‘‘ کی ناکامی اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نے عسکری کے ساتھ سفارتی محاذ پر بھی حقیقت پر مبنی اور پختہ حکمت عملی اختیار کی۔ پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری خطے میں توازن اور امن کا ضامن بن چکی ہے۔
پاکستان کی دفاعی طاقت
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاک چین اسٹریٹجک تعلقات باہمی اعتماد، غیر متزلزل حمایت اور مشترکہ عزم کی مثال ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دوستی مستحکم اور غیر متزلزل ہے۔ امن کی خواہش کے ساتھ ساتھ پاکستان نے دفاعی لحاظ سے بھی اپنے آپ کو نظرانداز نہیں کیا۔ حالیہ دنوں میں Z0ME اٹیک ہیلی کاپٹر کی شمولیت اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اپنی فضائی قوت کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کر رہا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر نہ صرف ہر موسم میں اور رات کے اندھیرے میں دشمن کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ جدید میزائل سسٹمز سے لیس ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ خطے میں امن قائم رہے، لیکن وہ دفاع سے غافل نہیں ہے، یہی جدید عسکری حکمت عملی کا بنیادی اصول بھی ہے۔








