کے ایم سی نالوں پر تجاوزات قائم ہیں جن کا آغاز فاروق ستار کے دور میں ہوا، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب
میئر کراچی کی پریس کانفرنس
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) میئر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ کے ایم سی نالوں کی گنجائش 40 میٹر ہے مگر کراچی میں 235 ملی میٹر بارش ہوئی۔ بہت سے نالوں پر تجاوزات قائم ہیں، جن کا آغاز فاروق ستار کے دور میں ہوا۔ ٹاؤن چیئرمینز ذہن سے نکال دیں، وہ اب جماعتی نہیں بلکہ ٹاؤنز کے افسران ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا شادی سے قبل دلہا دلہن کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی ہوگا؟ قائمہ کمیٹی اجلاس میں بحث
نالوں کی صفائی
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نالے صاف کرچکے تھے، نالوں سے 30 لاکھ 24 ہزار کیوبک فٹ کچرا نکال کر لینڈ فل سائٹ پہنچایا۔ اورنگی نالہ صاف نہ ہوتا تو کیا ضلع غربی کلیئر ہوتا؟ بارش 3 روز تک جاری رہی اور اگلا اسپیل آنے والا ہے۔ کے ایم سی کے ماتحت 106 سڑکیں ہیں، ہم نے کراچی کے تمام 14 انڈر پاسز کھول دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں منفی درجہ حرارت، گیس پائپ لائن منجمد، سپلائی متاثر
مقامی میڈیا اور بارش کے اثرات
میئر نے کہا کہ بارشوں کے بعد کی صورتحال پر منفی تبصرہ کیا گیا، جیسے نیویارک، دبئی، ہیوسٹن میں بارش ہو تو کیا پانی نہیں آیا؟ کیا ممبئی میں بارشیں نہیں ہوئیں؟ مگر ہمارے یہاں متعصب ہوجاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ہے۔ شاہراہ بھٹو بنائی تو پروپیگنڈا شروع ہوگیا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: خواتین سمیت 5 افراد کھلے نالے میں گر گئے، بیہوشی کی حالت میں ہسپتال منتقل
نقصانات اور مالی صورتحال
انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ ابھی ممبئی ڈوبا ہوا ہے اور کے پی کے حالات سب کے سامنے ہیں، مگر یہاں بارش ہوتے ہی ساری میڈیا نے کراچی کی خبریں شروع کردیں۔ سندھ حکومت جماعت اسلامی کے ٹاؤنز کو ماہانہ ایک ارب روپے فنڈ دیتی ہے۔ اسٹار گیٹ پر پانی اس لیے آتا ہے کہ ایئرپورٹ کی رن وے کلیئر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پڑوسی ملک ایران پر بلاوجہ اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں: وزیراعظم
عملے کی موجودگی
میئر کراچی نے کہا کہ کہا گیا کہ سڑکوں سے عملہ غائب ہے، اگر عملہ نہیں ہو، انتظامیہ نہیں ہو اور نالے صاف نہ ہوں تو ضرور کہا جائے۔ مگر کیا بھول گئے جب ناگن چورنگی، کے ڈی اے اور حیدری مارکیٹ ڈوب جاتی تھی مگر اب نہیں ڈوبی؟ یوسف گوٹھ تباہ ہوگیا تھا مگر بلاول نے نیا نالا بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں ایئرایمبولنس حادثے کا شکار، 7 افراد ہلاک
تجاوزات کا مسئلہ
انہوں نے کہا کہ صحافی کہتے ہیں نالے چوڑے کردیں، جہاں گنجائش ہے وہاں چوڑے کردیے مگر ٹاور اور اولڈ ایریاز میں نالے چوڑے کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ تجاوزات کی منظوری فاروق ستار کے دور میں ہوئی تھی، اور اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ کراچی کو آفت زدہ قرار دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا بی آر ٹی پشاور کا دورہ، ٹکٹ لے کر عام شہری کی طرح سفر کیا
مشکلات کا سامنا
میئر کا کہنا تھا کہ پروپیگنڈا کرنے اور باتیں کرنے سے معاملات حل نہیں ہوتے۔ ہمیں نیچا دکھانے کی بار بار کوشش کی جارہی ہے۔ میں دعوت دیتا ہوں، آ کر ہم سب مل کر کام کریں، عوام کی ذمہ داری میرے اوپر ہے، میں اختیارات نہ ہونے کا بہانہ نہیں کروں گا۔
ٹاؤنز کی پیشکش
انہوں نے کہا کہ ہر ٹاؤن یہ کہتا ہے کہ میرا اختیار نہیں ہے اور فنڈ نہیں ہے، میں ٹاؤنز کو پیشکش کرتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ مل کر کام کریں۔ ٹاؤنز چیئرمین کو اپنے ذہن سے جماعت اسلامی کو نکالنا ہوگا، وہ اب پارٹی کے عہدیدار نہیں بلکہ ٹاؤنز چیئرمین ہیں۔








