متحدہ عرب امارات میں ڈاکٹرز نے ایسی خاتون کی جان بچا لی جس کا دل 40 منٹ تک بند رہا
ڈاکٹرز کا حیران کن دعویٰ
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ڈاکٹرز نے حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی خاتون کی جان بچائی، جس کا دل تقریباً 40 منٹ تک بند رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈز کی سپرداری، عدالت کی یوٹیوبر ڈکی بھائی کوبیان حلفی جمع کرانےکی ہدایت
ہسپتال میں ایمرجنسی کی حالت
عرب اخبار ’گلف نیوز‘ کے مطابق ریاست فجیرہ کے ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ایسی خاتون کی جان بچانے میں کامیابی حاصل کی جن کا دل شدید ہارٹ اٹیک کے بعد تقریباً 40 منٹ تک بند رہا۔ رپورٹ کے مطابق خاتون کو اچانک حرکت قلب بند ہونے کے بعد ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں فوری طور پر لایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، جعلی پیر نے شہری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا
جدید بحالی تکنیکوں کا استعمال
محکمہ صحت کے مطابق ایک ماہر میڈیکل ٹیم نے جدید بحالی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے مسلسل محنت سے خاتون کی دھڑکن بحال کی اور ان کی جان بچائی۔ منتظمین کے مطابق ڈاکٹرز کی ہوشیاری اور طبی امداد سے خاتون میں کسی طرح کی کوئی پیچیدگی نہیں ہوئی اور یہ کہ مذکورہ علاج سے مستقبل میں بھی خاتون میں کوئی منفی اثر نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو بنی گالہ میں نظر بند کردیا جائے ، وہ ضدی ہیں غدار نہیں،ابتدائی مصالحت ہو جائے تو۔۔؟ سہیل وڑائچ نے سیاسی ڈیڈ لاک کو “راستہ ” بتا دیا
ہسپتال کی تیاری اور ٹیم کی مہارت
فجیرہ ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد عبید الخادم نے اس کیس کو ہسپتال کی تیاری اور میڈیکل اسٹاف کی غیر معمولی مہارت کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ کامیابی ان کے ہسپتال کے ٹیم ورک اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے، جو جدید اور محفوظ صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے کے ان کے عزم کو تقویت دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت کا ایم ڈی کیٹ امتحان 4 ہفتوں میں دوبارہ لینے کا حکم
ایمرجنسی اور کارڈیالوجی ٹیم کا Coordination
ہسپتال کے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر ثائر خازیم نے بتایا کہ ایمرجنسی اور کارڈیالوجی ٹیموں کے درمیان فوری اور موثر رابطہ کاری اس کامیابی کی بنیاد تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ طویل عرصے تک حرکت قلب بند ہونے کے باوجود ہمارے مربوط ردعمل نے خاتون کی جان بچانے اور مکمل صحت یابی کو یقینی بنایا۔
علاج کی تفصیلات
اگرچہ ہسپتال منتظمین اور ڈاکٹرز نے چالیس منٹ تک دل کی دھڑکن بند رہنے کے باوجود خاتون کو بچانے کا دعویٰ کیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ خاتون کو کس طرح کا علاج فراہم کیا گیا۔








