متحدہ عرب امارات میں ڈاکٹرز نے ایسی خاتون کی جان بچا لی جس کا دل 40 منٹ تک بند رہا
ڈاکٹرز کا حیران کن دعویٰ
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ڈاکٹرز نے حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی خاتون کی جان بچائی، جس کا دل تقریباً 40 منٹ تک بند رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے وکلا کی ملاقات کے لیے عدالت کی جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت
ہسپتال میں ایمرجنسی کی حالت
عرب اخبار ’گلف نیوز‘ کے مطابق ریاست فجیرہ کے ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ایسی خاتون کی جان بچانے میں کامیابی حاصل کی جن کا دل شدید ہارٹ اٹیک کے بعد تقریباً 40 منٹ تک بند رہا۔ رپورٹ کے مطابق خاتون کو اچانک حرکت قلب بند ہونے کے بعد ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں فوری طور پر لایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو چین سے تجارتی معاہدے کی صورت میں 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی
جدید بحالی تکنیکوں کا استعمال
محکمہ صحت کے مطابق ایک ماہر میڈیکل ٹیم نے جدید بحالی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے مسلسل محنت سے خاتون کی دھڑکن بحال کی اور ان کی جان بچائی۔ منتظمین کے مطابق ڈاکٹرز کی ہوشیاری اور طبی امداد سے خاتون میں کسی طرح کی کوئی پیچیدگی نہیں ہوئی اور یہ کہ مذکورہ علاج سے مستقبل میں بھی خاتون میں کوئی منفی اثر نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سوات اور گردونواح میں 4.7 شدت کا زلزلہ
ہسپتال کی تیاری اور ٹیم کی مہارت
فجیرہ ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد عبید الخادم نے اس کیس کو ہسپتال کی تیاری اور میڈیکل اسٹاف کی غیر معمولی مہارت کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ کامیابی ان کے ہسپتال کے ٹیم ورک اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے، جو جدید اور محفوظ صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے کے ان کے عزم کو تقویت دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان پر تعمیر نو خرجات: دوسری جنگِ عظیم سے بھی زیادہ، امریکہ نے کتنے ارب ڈالر خرچ کیے؟ رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات
ایمرجنسی اور کارڈیالوجی ٹیم کا Coordination
ہسپتال کے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر ثائر خازیم نے بتایا کہ ایمرجنسی اور کارڈیالوجی ٹیموں کے درمیان فوری اور موثر رابطہ کاری اس کامیابی کی بنیاد تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ طویل عرصے تک حرکت قلب بند ہونے کے باوجود ہمارے مربوط ردعمل نے خاتون کی جان بچانے اور مکمل صحت یابی کو یقینی بنایا۔
علاج کی تفصیلات
اگرچہ ہسپتال منتظمین اور ڈاکٹرز نے چالیس منٹ تک دل کی دھڑکن بند رہنے کے باوجود خاتون کو بچانے کا دعویٰ کیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ خاتون کو کس طرح کا علاج فراہم کیا گیا۔








