طوطی کی آواز نقار خانے میں کون سنتا ہے ؟
تحریر کا آغاز
تحریر: طارق محمود جہانگیری کامریڈ
طوطی کی آواز نقار خانے میں کون سنتا ہے ، اردو زبان کی یہ ایک بہت ہی مشہور کہاوت ہے۔ اس ضرب المثل کو محاورے کے طور پر بھی بولا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ طوطی کو نقار خانے میں بولنے کی ضرورت کیا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: 200 یونٹ والی بدمعاشی ختم کریں؛ نعمان اعجاز بجلی کے بڑھتے نرخوں پر برہم
نقار خانے کی صورتحال
نیوز چینل کے بہت سے ٹاک شوز میں عجیب و غریب تجزیے دیکھنے، سننے، قومی اخبارات میں کچھ قصہ خوانی طرز کے، کچھ فکر انگیز کالمز بھی پڑھنے کو ملتے ہیں لیکن سنجیدہ فکری کالم نگاروں کو سمجھانے کی یہ جسارت کون کرے کہ جناب عالی اس نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ سچ پوچھئے تو اس وقت نقار خانے میں اتنا شور وغل ہے کہ نقارہ بجانے والا خود اپنی آواز نہیں سن رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سحر خان بولڈ لباس پر تنقید کی زد میں آگئیں
ماضی کے درباری مؤرخین
برصغیر کے خوشامدی درباری قصہ گو فسانہ نگار مورخین کا اب دور نہیں رہا کہ جنہوں نے اپنی فسانہ عجائب تواریخ میں سلاطین ہند کے فرضی کرداروں، جھوٹے حالات و واقعات، من گھڑت کہانیاں بیان کرکے یہاں کے خوابیدہ قارئین کو ایک دراز عرصہ تک اپنے سحر انگیز تحریروں میں گرفتار کئے رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: فارسٹ گارڈز ماحولیاتی ہیرو ہیں : وزیر اعلیٰ پنجاب کاخصوصی پیغام
مغربی مورخین کا ورود
سائنسی علوم سے آشنا مغربی مورخین جب برصغیر میں ابر رحمت بن کر آئے تو ہندوستان کے بازاری مورخین جن کی طوطا کہانی تواریخ جس میں ایک حقیقت ہزاروں فسانے ہوتے تھے۔ ان قصہ گو مورخین کو اپنی دانشمندی کی دکانداری کے لیے ویرانوں میں بھی جائے پناہ نہ ملی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ میں بلاول بھٹو زرداری کی نااہلی کے لیے درخواست دائر
تجزیہ نگاری کا تبدیل شدہ منظر نامہ
ہمارے پروفیسر ڈاکٹر مبارک علی واحد ایسے قلمکار اور تجزیہ نگار باقی رہ گئے ہیں جن کو مؤرخین کی تراشی گئی بھوت پریت کہانیاں سنانے میں ہی اپنی دانشمندی نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کو بھی معلوم نہیں کہ انہوں نے آئینی ترمیم میں کیا مسودہ فائنل کیا، عمر ایوب
سہیل وڑائچ کا کالم
صحافت نے مستند تاریخ کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی نے مؤرخ کا درجہ لے لیا ہے۔ سہیل وڑائچ ہمارے ملک کے ایک تجربہ کار تجزیہ نگار، صحافی اور معروف کالم نگار ہیں۔ اپنے سنسنی خیز کالمز کی بدولت کئی مرتبہ تہلکہ خیزی مچا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا کا فیصلہ مضحکہ خیز ہے۔ عمرایوب خان
معاف کرنے کا مطالبہ
ان کے متنازعہ کالم کی وجہ سے بھونچال آگیا۔ زور دار جھٹکوں سے بڑے بڑے ایوانوں اور مظبوط قلعوں کی اونچی اونچی دیواریں بھی لزرا اٹھیں۔ سہیل وڑائچ سے ذاتی رنجش اور پیشہ ورانہ صحافتی عناد رکھنے والے بعض اخبار نویس نے ان کو درباری مؤرخ بھی قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف اور نواز شریف کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
سوشل میڈیا کی بحث
اس وقت صحافی سہیل وڑائچ کا ایک کالم معافی و تلافی، پاکستان آرمی چیف سے برسلز میں ملاقات اور اس میں ہونے والی گفتگو کی خبر ملک بھر میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ جمرات کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے اس خبر کی تردید کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد، تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی اور سعید آفریدی گرفتار
سیاسی اور سماجی تنقید
ہماری بہت سے کہنہ مشق صحافی حضرات کو بھی فیلڈ مارشل سے ملاقات پر شائع کردہ کالم کے مندرجات، بیان کیے گئے سوالات کی صحت پر تشویش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ کے علاقے تائی پو میں خوفناک آگ، 36 افراد ہلاک، 279 لاپتہ
موجودہ سیاسی صورتحال
پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں کے دوران جو سیاسی تناو پیدا ہوا ہے، بےچینی، سیاسی افراتفری کا جو عالم اور بےیقینی کی جو فضا پائی جارہی ہے، اس میں ڈیجیٹل بازی گری مداریوں کا بڑا عمل دخل ہے۔
خلاصہ
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان دنیا کا شاید واحد ملک ہوگا جس کے ماضی کے متعلق تو بہت کچھ کہا اور لکھا جاسکتا ہے لیکن مستقبل کے بارے میں کوئی بھی پیشنگوئی نہیں کی جاسکتی۔








