طوطی کی آواز نقار خانے میں کون سنتا ہے ؟
تحریر کا آغاز
تحریر: طارق محمود جہانگیری کامریڈ
طوطی کی آواز نقار خانے میں کون سنتا ہے ، اردو زبان کی یہ ایک بہت ہی مشہور کہاوت ہے۔ اس ضرب المثل کو محاورے کے طور پر بھی بولا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ طوطی کو نقار خانے میں بولنے کی ضرورت کیا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: کوہ سلیمان کے ندی نالوں میں طغیانی، اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم
نقار خانے کی صورتحال
نیوز چینل کے بہت سے ٹاک شوز میں عجیب و غریب تجزیے دیکھنے، سننے، قومی اخبارات میں کچھ قصہ خوانی طرز کے، کچھ فکر انگیز کالمز بھی پڑھنے کو ملتے ہیں لیکن سنجیدہ فکری کالم نگاروں کو سمجھانے کی یہ جسارت کون کرے کہ جناب عالی اس نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ سچ پوچھئے تو اس وقت نقار خانے میں اتنا شور وغل ہے کہ نقارہ بجانے والا خود اپنی آواز نہیں سن رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی برادری بھارتی آبی دہشت گردی روکنے میں ہمارا ساتھ دے: پاکستان
ماضی کے درباری مؤرخین
برصغیر کے خوشامدی درباری قصہ گو فسانہ نگار مورخین کا اب دور نہیں رہا کہ جنہوں نے اپنی فسانہ عجائب تواریخ میں سلاطین ہند کے فرضی کرداروں، جھوٹے حالات و واقعات، من گھڑت کہانیاں بیان کرکے یہاں کے خوابیدہ قارئین کو ایک دراز عرصہ تک اپنے سحر انگیز تحریروں میں گرفتار کئے رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دے دی
مغربی مورخین کا ورود
سائنسی علوم سے آشنا مغربی مورخین جب برصغیر میں ابر رحمت بن کر آئے تو ہندوستان کے بازاری مورخین جن کی طوطا کہانی تواریخ جس میں ایک حقیقت ہزاروں فسانے ہوتے تھے۔ ان قصہ گو مورخین کو اپنی دانشمندی کی دکانداری کے لیے ویرانوں میں بھی جائے پناہ نہ ملی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پہلی بار پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی ’’شارک6‘‘ متعارف
تجزیہ نگاری کا تبدیل شدہ منظر نامہ
ہمارے پروفیسر ڈاکٹر مبارک علی واحد ایسے قلمکار اور تجزیہ نگار باقی رہ گئے ہیں جن کو مؤرخین کی تراشی گئی بھوت پریت کہانیاں سنانے میں ہی اپنی دانشمندی نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم افغانستان کی بگرام ائیربیس اپنے پاس رکھیں گے اور اسے کسی کو نہیں دیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
سہیل وڑائچ کا کالم
صحافت نے مستند تاریخ کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی نے مؤرخ کا درجہ لے لیا ہے۔ سہیل وڑائچ ہمارے ملک کے ایک تجربہ کار تجزیہ نگار، صحافی اور معروف کالم نگار ہیں۔ اپنے سنسنی خیز کالمز کی بدولت کئی مرتبہ تہلکہ خیزی مچا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میں نے 150 مردوں کے ساتھ جسمانی تعلق بنایا — آدمی کا مذہبی گرو کے سامنے شرمناک اعتراف
معاف کرنے کا مطالبہ
ان کے متنازعہ کالم کی وجہ سے بھونچال آگیا۔ زور دار جھٹکوں سے بڑے بڑے ایوانوں اور مظبوط قلعوں کی اونچی اونچی دیواریں بھی لزرا اٹھیں۔ سہیل وڑائچ سے ذاتی رنجش اور پیشہ ورانہ صحافتی عناد رکھنے والے بعض اخبار نویس نے ان کو درباری مؤرخ بھی قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے کراچی والوں کیلئے بجلی مزید مہنگی کردی
سوشل میڈیا کی بحث
اس وقت صحافی سہیل وڑائچ کا ایک کالم معافی و تلافی، پاکستان آرمی چیف سے برسلز میں ملاقات اور اس میں ہونے والی گفتگو کی خبر ملک بھر میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ جمرات کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے اس خبر کی تردید کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی دارالحکومت میں آئین کی پامالی افسوسناک ہے:مصطفیٰ نواز کھوکھر پھر کھل کر بول پڑے
سیاسی اور سماجی تنقید
ہماری بہت سے کہنہ مشق صحافی حضرات کو بھی فیلڈ مارشل سے ملاقات پر شائع کردہ کالم کے مندرجات، بیان کیے گئے سوالات کی صحت پر تشویش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کاہنہ میں کمسن بچی سے زیادتی، مجرم کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے :حنا پرویز بٹ
موجودہ سیاسی صورتحال
پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں کے دوران جو سیاسی تناو پیدا ہوا ہے، بےچینی، سیاسی افراتفری کا جو عالم اور بےیقینی کی جو فضا پائی جارہی ہے، اس میں ڈیجیٹل بازی گری مداریوں کا بڑا عمل دخل ہے۔
خلاصہ
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان دنیا کا شاید واحد ملک ہوگا جس کے ماضی کے متعلق تو بہت کچھ کہا اور لکھا جاسکتا ہے لیکن مستقبل کے بارے میں کوئی بھی پیشنگوئی نہیں کی جاسکتی۔








