طوطی کی آواز نقار خانے میں کون سنتا ہے ؟

تحریر کا آغاز

تحریر: طارق محمود جہانگیری کامریڈ
طوطی کی آواز نقار خانے میں کون سنتا ہے ، اردو زبان کی یہ ایک بہت ہی مشہور کہاوت ہے۔ اس ضرب المثل کو محاورے کے طور پر بھی بولا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ طوطی کو نقار خانے میں بولنے کی ضرورت کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف 11 اور 12 دسمبر کو ترکمانستان کا دورہ کریں گے

نقار خانے کی صورتحال

نیوز چینل کے بہت سے ٹاک شوز میں عجیب و غریب تجزیے دیکھنے، سننے، قومی اخبارات میں کچھ قصہ خوانی طرز کے، کچھ فکر انگیز کالمز بھی پڑھنے کو ملتے ہیں لیکن سنجیدہ فکری کالم نگاروں کو سمجھانے کی یہ جسارت کون کرے کہ جناب عالی اس نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ سچ پوچھئے تو اس وقت نقار خانے میں اتنا شور وغل ہے کہ نقارہ بجانے والا خود اپنی آواز نہیں سن رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج، لاہور میں دوسرے روز بھی میٹرو بس سروس مکمل طورپربند

ماضی کے درباری مؤرخین

برصغیر کے خوشامدی درباری قصہ گو فسانہ نگار مورخین کا اب دور نہیں رہا کہ جنہوں نے اپنی فسانہ عجائب تواریخ میں سلاطین ہند کے فرضی کرداروں، جھوٹے حالات و واقعات، من گھڑت کہانیاں بیان کرکے یہاں کے خوابیدہ قارئین کو ایک دراز عرصہ تک اپنے سحر انگیز تحریروں میں گرفتار کئے رکھا۔

یہ بھی پڑھیں: گورکھ ہل منسونہ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

مغربی مورخین کا ورود

سائنسی علوم سے آشنا مغربی مورخین جب برصغیر میں ابر رحمت بن کر آئے تو ہندوستان کے بازاری مورخین جن کی طوطا کہانی تواریخ جس میں ایک حقیقت ہزاروں فسانے ہوتے تھے۔ ان قصہ گو مورخین کو اپنی دانشمندی کی دکانداری کے لیے ویرانوں میں بھی جائے پناہ نہ ملی۔

یہ بھی پڑھیں: سود کے بغیر آسان قسطوں پر 150سی سی موٹر سائیکل حاصل کریں

تجزیہ نگاری کا تبدیل شدہ منظر نامہ

ہمارے پروفیسر ڈاکٹر مبارک علی واحد ایسے قلمکار اور تجزیہ نگار باقی رہ گئے ہیں جن کو مؤرخین کی تراشی گئی بھوت پریت کہانیاں سنانے میں ہی اپنی دانشمندی نظر آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خطے میں انٹرنیٹ بندش کے حوالے سے ممالک میں پاکستان کا نمبر بہت پیچھے ہے،چیئرمین پی ٹی اے

سہیل وڑائچ کا کالم

صحافت نے مستند تاریخ کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی نے مؤرخ کا درجہ لے لیا ہے۔ سہیل وڑائچ ہمارے ملک کے ایک تجربہ کار تجزیہ نگار، صحافی اور معروف کالم نگار ہیں۔ اپنے سنسنی خیز کالمز کی بدولت کئی مرتبہ تہلکہ خیزی مچا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، بھارت وکلاء انجمنوں کو قانون کی طاقت بھی استعمال کرنی چاہیے، سفید پتلون اور گلابی شرٹ میں ملبوس بزرگ نے بتایا وہ کرکٹ کے پرانے سیوک ہیں

معاف کرنے کا مطالبہ

ان کے متنازعہ کالم کی وجہ سے بھونچال آگیا۔ زور دار جھٹکوں سے بڑے بڑے ایوانوں اور مظبوط قلعوں کی اونچی اونچی دیواریں بھی لزرا اٹھیں۔ سہیل وڑائچ سے ذاتی رنجش اور پیشہ ورانہ صحافتی عناد رکھنے والے بعض اخبار نویس نے ان کو درباری مؤرخ بھی قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائی کورٹ کا 10 سے زائد لاپتا افراد سے متعلق مقدمات درج کرنے کا حکم

سوشل میڈیا کی بحث

اس وقت صحافی سہیل وڑائچ کا ایک کالم معافی و تلافی، پاکستان آرمی چیف سے برسلز میں ملاقات اور اس میں ہونے والی گفتگو کی خبر ملک بھر میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ جمرات کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے اس خبر کی تردید کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شہری کو دوست سے ملنے تھانے آنا مہنگا پڑ گیا

سیاسی اور سماجی تنقید

ہماری بہت سے کہنہ مشق صحافی حضرات کو بھی فیلڈ مارشل سے ملاقات پر شائع کردہ کالم کے مندرجات، بیان کیے گئے سوالات کی صحت پر تشویش ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گزشتہ کافی عرصہ سے برطانیہ کی سر زمین کو پی ٹی آئی کے بھگوڑے یو ٹیوبرز اور شر پسند عناصر بیرونی آقاؤں کی ایما پر پاکستان اور فوج مخالف بیانیہ کے لئے استعمال کر رہے ہیں،محسن شاہنوازرانجھا

موجودہ سیاسی صورتحال

پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں کے دوران جو سیاسی تناو پیدا ہوا ہے، بےچینی، سیاسی افراتفری کا جو عالم اور بےیقینی کی جو فضا پائی جارہی ہے، اس میں ڈیجیٹل بازی گری مداریوں کا بڑا عمل دخل ہے۔

خلاصہ

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان دنیا کا شاید واحد ملک ہوگا جس کے ماضی کے متعلق تو بہت کچھ کہا اور لکھا جاسکتا ہے لیکن مستقبل کے بارے میں کوئی بھی پیشنگوئی نہیں کی جاسکتی۔

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...