اسرائیلی فوج کی یمن پر بمباری
بمباری کا واقعہ
یروشلم/صنعاء (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی فوج نے یمن کے دارالحکومت صنعاء پر بمباری کی ہے جس میں کم از کم دو افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوگئے۔ یہ حملے غزہ پر جاری جنگ کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: شک کی بنیاد پر 90 روز تحویل میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے, فضل الرحمان.
اسرائیلی کارروائیاں
الجزیرہ کے مطابق، حوثی تنظیم سے منسلک ٹی وی "المسیرہ" کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز ہونے والے فضائی حملے میں ایک تیل کی تنصیب اور بجلی گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے صنعاء کے صدارتی محل کو بھی نشانہ بنایا جو کہ اس کے مطابق ایک "فوجی کمپلیکس" کے اندر واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ جیل خانہ جات سندھ میں نفری کی کمی کے باوجود درجنوں اہلکار وی آئی پیز سکیورٹی پر تعینات
حوثیوں کی جانب سے دعوے
یہ بمباری اُس وقت ہوئی جب دو روز قبل حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل داغنے کا دعویٰ کیا تھا۔ حوثی گروپ کے مطابق، ان کی کارروائیاں اسرائیل کو غزہ میں محاصرہ اور مظالم ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں بے پناہ مواقع موجود ہیں: وزیر اعلیٰ پنجاب
اسرائیلی فوج کا بیان
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل اور اس کے شہریوں پر بار بار کیے جانے والے میزائل و ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
حوثی عسکری عہدیدار کا حوالہ
المسیرہ نے ایک حوثی عسکری عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ گروپ کے فضائی دفاع نے "زیادہ تر اسرائیلی طیاروں کو ناکام بنایا اور انہیں علاقے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔"








