یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے لیے 27 ارب کا مالی پیکیج تیار، ملازمین کی رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کے لیے 15 سے 18 ارب روپے مختص
وفاقی حکومت کا مالی پیکیج
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کیلئے 27 ارب روپے کا بڑا مالی پیکیج تیار کر لیا۔ منظوری کل اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس سے لی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں بڑا اضافہ
پی آئی اے کی نجکاری
حکام وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کیلئے جانچ پڑتال بھی جاری ہے۔ بولی رواں سال آخری سہہ ماہی میں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سپین میں طوفانی بارشوں سے 202 ہلاک، سینکڑوں افراد لاپتہ
قومی اسمبلی کی کمیٹی کا اجلاس
سما ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں ارکان نے یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش اور ملازمین کو واجبات کی عدم ادائیگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سیکرٹری صنعت و پیداوار نے بتایا کہ ملازمین کیلئے مالی پیکیج تیار کر لیا ہے۔ منظوری کیلئے کل وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: دو بھائیوں کا قتل، 30 روپے کا جھگڑا یا قتل کی منظم سازش؟ صحافی امجد بخاری نے سوال اٹھا دیا
پیکیج کی تفصیلات
27 ارب کے پیکیج میں ملازمین کی رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کیلئے 15 سے 18 ارب روپے شامل ہیں۔ 13 ارب 80 کروڑ روپے وینڈرز کو واجب الادا ہیں۔ یوٹیلٹی اسٹورز کے ذمہ مجموعی طور پر 54 ارب روپے کا قرضہ واجب الادا ہے। ادارے کے تقریباً 11 ہزار ملازمین میں سے صرف 300 کو نجکاری تک برقرار رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، خودکش حملے کے لیے تیار کی گئی گاڑی تباہ، 3 خوارج ہلاک
کمیٹی کی تشویش
کمیٹی نے یوٹیلٹی اسٹورز ملازمین کیلئے پیکیج کی مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔ نجکاری کمیشن حکام نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کیلئے جانچ پڑتال شروع ہو چکی ہے۔
بجلی کی بندش پر تشویش
کمیٹی کے ارکان نے ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش پربھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی فاروق ستار بولے پندرہ پندرہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ کمیٹی نے وزیر توانائی کو اگلے اجلاس میں بریفنگ کیلئے بلا لیا۔








