کیا پنجاب حکومت نے سٹیٹ بینک سے قرض لیا۔۔۔؟ عظمیٰ بخاری کا جواب آ گیا
پنجاب حکومت پر قرض لینے کی خبر کا ردعمل
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے پنجاب حکومت پر قرض لینے سے متعلق میڈیا میں شائع ہونے والی خبر کو مکمل طور پر بے بنیاد، غلط فہمی پر مبنی اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے ایک روپیہ بھی قرض نہیں لیا۔
یہ بھی پڑھیں: جہلم سے اسلام آباد دھرنے میں جانے والے ایم پی اے کے قافلے پر چھاپہ، 21کارکنان گرفتار
اصل حقیقت
جس رقم کا ذکر خبر میں کیا گیا ہے، وہ درحقیقت پنجاب حکومت کی جانب سے فیڈرل گورنمنٹ کے ٹی-بلز میں کی جانے والی سرمایہ کاری ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف منافع حاصل کرنا ہے، نہ کہ کسی قسم کا قرض لینا۔
یہ بھی پڑھیں: دکی میں مسلح افراد نے 3 ٹرکوں کو فائرنگ کے بعد آگ لگادی
پنجاب کی مالی حالت
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پنجاب ایک سرپلس صوبہ ہے جس کے اکاؤنٹ میں اس وقت 1 ٹریلین روپے سے زائد رقم موجود ہے۔ ہمیں کسی قسم کے قرض کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ رپورٹ لکھنے والے صحافی کو یہ بنیادی بات بھی معلوم نہیں کہ 2019 میں سٹیٹ بینک کے ایکٹ میں ترمیم کے بعد، کوئی بھی حکومت – چاہے وفاقی ہو یا صوبائی – سٹیٹ بینک سے براہ راست قرض نہیں لے سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: کرم میں کشیدگی کے بعد نقل مکانی: بگن ویران ہوگیا، بازار اور دکانیں جل گئیں، یہاں اب چائے کی پتی اور ڈسپرین کی گولی تک نہیں ملتی
صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی
وزیر اطلاعات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جس رپورٹ میں مختلف اداروں کا ذکر کیا گیا ہے، وہ ممکنہ طور پر وفاقی حکومت کے ماتحت ادارے ہو سکتے ہیں۔ پنجاب کے زیر انتظام کسی بھی ادارے نے کوئی قرض نہیں لیا۔ ایسی بے سروپا اور حقائق کے منافی رپورٹس صحافت کے اصولوں کے خلاف ہیں۔
قانونی چارہ جوئی کی دھمکی
ایسی خبریں دینے वालों کو اپنی غلط معلومات پر شرمندگی کا اظہار کرنا چاہیے۔ اگر اس قسم کی گمراہ کن رپورٹنگ کا سلسلہ جاری رہا تو حکومت قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔








