آئندہ سال مزید مشکل، موسمیاتی تبدیلی کی شدت 22 فیصد بڑھ سکتی ہے: این ڈی ایم اے
اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خطرناک ہیں اور اگلے سال اس کی شدت 22 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ٹرائل رکوانے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا
پبلک اکاونٹس کمیٹی کی بریفنگ
انہوں نے یہ بات ملک کی موجودہ صورتحال پر پبلک اکاونٹس کمیٹی کو دی گئی بریفننگ کے دوران کہی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے: سپریم کورٹ میں پیش رپورٹ میں انکشاف
موسمیاتی اثرات اور آئندہ چیلنجز
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر کا کہنا تھا کہ اگر درجہ حرارت بڑھتا رہا تو گلیشیئرز ختم ہو جائیں گے، اور آنے والا سال بدقسمتی سے زیادہ مشکل ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ؛ 67 لاکھ فراڈ کیس کے ملزم کی ضمانت مسترد
مون سون کے دباؤ کا جائزہ
انھوں نے کمیٹی کو بتایا کہ مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک جاری رہے گا۔ پاکستان کے پانی کے ذخیروں کی نگرانی کی جارہی ہے، اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ستلج کے علاقے سے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو نکالا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1. دو دہائیوں کی رفاقت میں کبھی غلط بیانی کی نہ جھوٹ بولا، کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کے درخواست کی کاپی دیتے کہا ”اکیلے میں راجہ صاحب کو دینا“
گلگت بلتستان میں امدادی سرگرمیاں
گلگت بلتستان میں ہونے والی تباہی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ جن جگہوں کو نقصان پہنچا ہے، انھیں دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، اور اب تک مختلف علاقوں میں 2100 ٹن امدادی سامان بھجوایا جا چکا ہے۔
نشیبی علاقوں کی خالی کرنے کی ضرورت
ان کا کہنا تھا کہ کئی جگہوں پر لوگ پانی کے راستوں پر رہ رہے تھے، اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر کے نشیبی علاقوں کو خالی کروایا جائے۔








