نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی 4 فون کالز مسترد کردیں، جرمن اخبار کا دعویٰ
نریندر مودی کا ٹرمپ کی کالز کا جواب نہ دینا
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے حالیہ ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی 4 فون کالز کا جواب دینے سے انکار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلے پانچ ون ڈے میچوں میں 5 نصف سنچریاں ، جنوبی افریقی بیٹر میتھیو بریٹزکی نے تاریخ رقم کر دی
مودی کے ٹرمپ سے بات نہ کرنے کے اسباب
جرمن اخبار فرینکفرٹر الگمائنے سائٹنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ مودی کی جانب سے ٹرمپ سے بات نہ کرنے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ امریکی صدر کے اقدامات سے سخت نالاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے 31 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، اگلے 200 دن میں مربوط اقدامات کرنے کا فیصلہ
جاپانی اطلاعات
جاپانی اخبار نکئی ایشیا نے بھی ایسی ہی اطلاعات دی ہیں کہ مودی ٹرمپ کی کالز سے گریز کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چلغوزے کی قیمت میں پچاس سے ساٹھ فیصد تک کمی ریکارڈ
بھارت اور امریکا کے تعلقات
بھارت اور امریکا کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدہ ہیں جب صدر ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف کو دوگنا کرتے ہوئے 50 فیصد تک بڑھا دیا جو کہ برازیل کے بعد کسی بھی ملک پر عائد سب سے زیادہ شرح ہے۔ اس میں روسی خام تیل کی بھارتی خریداری پر 25 فیصد اضافی ڈیوٹی بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ارسا نے پنجاب اور سندھ کے لیے پانی کی فراہمی میں اضافہ کر دیا
امریکا کی ساکھ متاثر
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت میں اس وقت سے امریکا کی ساکھ متاثر ہوئی ہے جب سے صدر ٹرمپ بار بار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان لڑائی ان کی ثالثی کی وجہ سے رکی۔ بھارت نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔ گزشتہ 2 دہائیوں میں بھارت اور امریکا چین کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کے لیے قریب آئے تھے لیکن ٹرمپ کے سخت تجارتی اقدامات نے اس شراکت داری کو کمزور کر دیا ہے، جسے بیجنگ اور ماسکو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔
مودی کا چین کا دورہ
وزیرِاعظم مودی رواں ماہ کے آخر میں چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ مودی کا پہلا دورہ چین ہوگا، جسے بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں نرمی لانے اور واشنگٹن و بیجنگ کے بدلتے تعلقات پر نظر رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔








