زیادہ صوبے بنانے سے انصاف کا حصول ممکن اور آمدنی میں اضافہ ہوگا، میاں عامر محمود
انصاف کے حصول میں بہتری
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود کا کہنا ہے کہ زیادہ صوبے بنانے سے انصاف کے حصول میں بہتری اور آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں لوکل گورنمنٹ کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور نہ ہی اسے فروغ دینے کا موقع دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مری میں 22 گھنٹوں بعد رکنے والی برف باری ایک بار پھر شروع ہوگئی ، جھیگا گلی سے ملحقہ ایم آئی ٹی روڈ پر سیاحوں کی گاڑیاں پھنس گئیں۔
لوکل گورنمنٹ کی اہمیت
یونیورسٹی آف لاہور میں پاکستان کی نجی یونیورسٹیز کی نمائندہ تنظیم "ایپ سپ" کے زیر اہتمام آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ شہریوں کی 90 فیصد ضروریات لوکل گورنمنٹ کے ذریعے پوری ہوتی ہیں، لیکن اسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ گلی سے لیکر شہر تک صفائی ستھرائی اور دیگر سہولیات کی فراہمی لوکل گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 1700 روپے کمی
تعلیمی نظام کے چیلنجز
پاکستان کا تعلیمی نظام سنگین چیلنجز کا شکار ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے عالمی اداروں کی تجاویز پر عمل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قانون کی بالادستی کے حوالے سے پاکستان دنیا میں 120 ویں نمبر پر ہے جبکہ لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہمارا ایجوکیشن سسٹم کس طرح چل رہا ہے اور ہم اسے بہتر بنانے کے لیے کیا عملی اقدامات کر رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: جیل جانے میں کوئی مسئلہ نہیں، اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایمان مزاری
تعلیمی بحران کی شدت
چیئرمین پنجاب گروپ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں تعلیمی بحران سنگین حد تک بڑھ چکا ہے اور 2 کروڑ 50 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ آج پنجاب کی آبادی 127 ملین ہے اور ہر ملک نے آبادی کے بڑھنے کے ساتھ اپنے نظام کو منظم کیا ہے، مگر پاکستان میں اس حوالے سے اب بھی ناکافی اقدامات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور قافلے کیساتھ اسلام آباد کیلئے روانہ، بشریٰ بی بی بھی ہمراہ ہیں
صوبوں کی تشکیل کی اہمیت
چیئرمین پنجاب گروپ نے کہا کہ امریکا کی آبادی 25 لاکھ تھی اور 13 ریاستیں تھیں، آج امریکا کی 50 ریاستیں ہیں۔ صوبوں نے مل کر ملک بنائے ہیں، ملک صوبوں کو نہیں بدل سکتا۔ جب ہمارے 4 صوبے تھے تو بھارت کے 9 صوبے تھے۔ بھارت اس وقت ایک ارب 45 کروڑ کی آبادی اور 28 صوبے رکھتا ہے۔
صوبوں کے مطالبات
ملتان، بہاولپور کے لوگ الگ صوبہ چاہ رہے ہیں، ہزارہ کا علاقہ بڑی دیر سے الگ صوبہ بننا چاہتا ہے۔ مہاجر لوگ بھی اپنے الگ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہر ملک نے بہت زیادہ صوبے بنائے ہیں، آپ ہر ڈویژن کو صوبہ بنا دیں، پنجاب میں 10 صوبے بنیں گے، سندھ 7 حصوں میں تقسیم ہوگا اور بلوچستان میں 8 ڈویژنز ہیں۔








