پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلابی صورتحال، پانی لاہور میں داخل، اموات کی تعداد 20 ہو گئی
پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی صورتحال
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب کے تین بپھرے دریاؤں راوی، چناب اور ستلج نے تباہی مچا دی ہے، دریاؤں کے کنارے آباد بستیاں اور فصلیں زیر آب آ گئیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: مختلف شہروں سے 4 کروڑ سے زائد مالیت کی منشیات برآمد، خاتون سمیت 4 ملزمان گرفتار
سیلاب کی وجوہات
تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث دریائے چناب، ستلج اور راوی بدستور سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور کے متعدد علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے۔ پنجاب میں دریاؤں کے آس پاس آباد دیہات، شہر اور گلی محلے دریا کا منظر پیش کرنے لگے، لوگوں کے آشیانے اجڑ گئے اور راستے برباد ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ کا دباؤ، یونیورسٹی آف ورجینیا کے صدر بھی مستعفی
عوام کی مشکلات
کہیں ڈوبے مکانوں کی چھتوں پر لوگ پناہ لینے پر مجبور ہیں تو کہیں سیلابی ریلوں میں پھنسے شہری بچی کُچی جمع پونجی اٹھائے محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔ وزیر آباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاؤالدین، بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت کئی علاقوں میں دیہات سیلاب کے گھیرے میں آ گئے اور زمینی رابطہ کٹ گیا جب کہ کئی مقامات پر عارضی بند ٹوٹ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 28 سال قبل چوری ہونے والی کار کا 10 ہزار روپے کا ای چالان موصول
حکومتی اقدامات
پی ڈی ایم اے کے ڈی جی عرفان کاٹھیا کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، موسمیاتی تغیر کی وجہ سے غیر متوقع بارشیں ہوئیں، سیلاب کی وجہ سے فصلوں کو کافی نقصان پہنچا، موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر نہ رکھ کر کوئی بھی کام کریں گے تو اس کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے پنجاب میں اب تک 20 اموات ہوچکی ہیں، سب سے زیادہ جانی نقصان گجرانوالہ میں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہد آفریدی کا باجوڑ کا خصوصی دورہ، سیلاب متاثرین کیلئے 20 لاکھ روپے امداد کا اعلان
مدد اور امدادی سرگرمیاں
عرفان کاٹھیا کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے ہر فرد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت ہے کہ لوگوں کی لائیو اسٹاک کو بچایا جائے، اب تک 3 لاکھ سے زائد مویشیوں کو محفوظ کیا ہے۔ فیصل آباد میں تاندلیانوالہ کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح میں اضافے کے باعث نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔ سیلاب کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تیسرا ٹی 20، پاکستان کا ٹاس جیت کر باؤلنگ کا فیصلہ
دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ
دریائے چناب میں چنیوٹ برج پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور چنیوٹ برج پر پانی کی آمد 830100 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے: وفاقی وزیراطلاعات
دریائے راوی کی صورتحال
دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کی وجہ سے فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد، مریدوالا کے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مطیع اللہ جان نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے سپریم کورٹ بار سے خطاب کی روداد بیان کردی
دریائے سندھ کا خطرہ
ڈپٹی کمشنر راجن پور شفقت اللہ مشتاق کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے، نشیبی علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے۔ دریائے سندھ کے قریب فلڈ ریلیف کیمپس قائم کردیے گئے ہیں۔ شفقت اللہ نے کہا کہ محکمہ صحت، لائیو اسٹاک اور ریسکیو ٹیمیں متحرک ہیں، حفاظتی بندوں کی مضبوطی کے لیے کام جاری ہے، پولیس کا کچے کے علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت چین روانہ
ملتان کی صورتحال
ملتان میں دریائے چناب کا خطرناک ریلا 24 سے 48 گھنٹوں میں شہر کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے، شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر بریچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو حکام، مقامی رضا کاروں، پاک فوج اور پاکستان رینجرز کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی گزشتہ روز سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی آپریشنز کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنماؤں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے.








