خواتین کے کپڑوں پر نامناسب بیان، عظمیٰ بخاری نے اپنی غلطی تسلیم کر لی

وزیراطلاعات پنجاب کا خواتین کے لباس پر بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیراطاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خواتین کے لباس سے متعلق کیے جانے والے نامناسب تبصرے پر اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس نے سکول کے باہر ڈیرے ڈالنے والے نشئیوں کو پکڑ کر گنجا کردیا
پریس کانفرنس کے دوران بیان
گزشتہ دنوں عظمیٰ بخاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران خواتین کے لباس سے متعلق بات کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ 'میں عورت ہوں اور جانتی ہوں کہ خواتین کو لباس کے حوالے سے کتنی مشکلات اٹھانا پڑتی ہیں'۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور اقوام متحدہ کے درمیان تنازع، عالمی ادارے کے لیے چیلنجنگ سال
غلطی کا اعتراف
عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ 'جو لوگ مریم نواز کے کپڑوں پر تنقید کرتے ہیں، انہیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ جن کی اپنی امیاں کپڑے پہننا مناسب ہی نہیں سمجھتیں'۔ اب عظمیٰ بخاری نے شاہزیب خانزادہ کے شو میں اس بیان پر بات کرتے ہوئے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی گلوکار سدھو موسے والا کو مداحوں کے دلوں میں ایک بار پھر زندہ کرنے کا اعلان
جذبات کا اظہار
وزیر اطلاعات نے کہا مجھے بہت تکلیف ہے کہ یہ بیان میرے منہ سے نکلا، لیکن یہ الفاظ میرے منہ سے بہت تکلیف میں نکلے۔ میری صورتحال سمجھنے کی کوشش کریں، کیا مریم نواز کسی کی ماں یا بہن نہیں ہیں؟ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میں بھی کسی کی ماں ہوں، لیکن جو سر کے بالوں سے پیر کے ناخن تک ٹرولنگ ہمیں برداشت کرنا پڑتی ہے تو ایک صبر ہے جو کبھی کبھی ختم ہوجاتا ہے۔
خواتین کے خلاف مہم
ان کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کی خواتین کے خلاف باقاعدہ مہم ہوتی ہے۔ مریم نواز کے کپڑوں پر اور ان کے خلاف استعمال کیے جانے والے الفاظ نہایت ہی غلط ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی مریم نواز کشتی پر سوار ہوکر شاہدرہ کے دورے پر گئیں، اس پر لوگوں نے ٹرولنگ کی اور ایک مہم چلائی۔ مریم نواز پنجاب کے لیے کیا کررہی ہیں اور انہوں نے اب تک کیا کیا، اس پر بات کیوں نہیں ہوتی؟ ہمیشہ خواتین کے کپڑوں پر بات کرنا ضروری ہے؟