غلط اور جعلی معلومات پھیلانے والے ہوجائیں ہوشیار، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو کارروائی کا اختیار دے دیاگیا۔

حکومت کی جانب سے سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اختیارات میں اضافہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اختیارات میں اضافہ کردیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق سائبر کرائمز بھی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے دائرہ کار میں شامل ہوں گے، غلط و جعلی معلومات پھیلانے کی سزا اب اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز: پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو 49 رنز سے شکست دے دی
غلط معلومات کے ذریعے پیسہ کمانے والوں کے خلاف کارروائی
ایکسپریس نیوز کے مطابق غلط معلومات کے ذریعے سوشل میڈیا سے پیسے کمانے والے بھی زد میں آئیں گے۔ ایجنسی سوشل میڈیا سے حاصل پیسوں کی تحقیقات اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کرے گی۔ ایجنسی اب سائبر دہشت گردی، الیکٹرانک فراڈ کی تحقیقات بھی کرے گی جبکہ چائلڈ پورنوگرافی اور آن لائن گرومنگ کے خلاف بھی کارروائی کا اختیار ہوگا۔
نئی کارروائیوں کا دائرہ
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی شناختی معلومات کے غیر مجاز استعمال، سم کارڈز کے غیر قانونی اجراء پر بھی کارروائی کرے گی۔ بچوں کا جنسی استحصال، سائبر لالچ کی تحقیقات بھی اب این سی سی اے کرے گی۔ ایجنسی اغوا، اسمگلنگ یا بچوں کی ٹریفکنگ میں انفارمیشن سسٹم کے استعمال پر بھی سزا دے گی، ترمیم کا مقصد سائبر کرائمز کی روک تھام اور مؤثر کارروائی ہے۔