بدقسمتی سے بنانے کے بجائے بگاڑ پیدا کرنا پی ٹی آئی کی فطرت ہے، وفاقی وزیر طارق فضل چودھری
حکومت کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے پی ٹی آئی ارکان کے قائمہ کمیٹیوں سے دیئے گئے استعفے فوری منظور نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے پاس پانی روکنے کی صلاحیت ہی نہیں، پانی کی فراہمی معمول کے مطابق ہے: عطا تارڑ
پی ٹی آئی سے مذاکرات
سما ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو پارلیمانی نظام کا حصہ رہنے پر قائل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس حوالے سے پارلیمانی قیادت سے رابطہ کرکے استعفے دینے کی پالیسی پر نظرثانی اور پارلیمانی نظام کا حصہ رہنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نریندر مودی کو فیلڈ مارشل عاصم منیر ہضم نہیں ہو رہے کیونکہ دنیا انہیں ایک فاتح جرنیل کے طور پر دیکھتی ہے، تجزیہ کار سلمان غنی
حکومت کی پیشکش
حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کو دوبارہ بات چیت کی بھی پیشکش کی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری کا کہنا ہے کہ حکومت کو پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری میں کوئی جلدی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگی وکلاء کے اتحاد کی خاطر اس وقت انتخابات انتہائی ضروری ہیں کیونکہ آنیوالا وقت انتہائی کٹھن ہے اور بھرپور منظم جدوجہد کا متقاضی ہے۔
پی ٹی آئی کا کردار
ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ کوشش ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان پارلیمان کا حصہ رہیں اور قائمہ کمیٹیوں میں اپنا کردار ادا کریں۔ بدقسمتی سے بنانے کے بجائے بگاڑ پیدا کرنا پی ٹی آئی کی فطرت ہے۔ سیاسی فرعونیت کی سوچ کے باعث ہی تحریک انصاف والے پارلیمان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
مستقبل کی راہیں
پی ٹی آئی کے لئے جب بھی راستہ نکلنا ہے، وہ پارلیمنٹ سے بات چیت کے ذریعے ہی نکلے گا۔








