سکھوں نے آزادی کی تحریک شروع کی تو ہندوستان نے اس بغاوت کا الزام بھی پاکستان پر عائد کیا اور سمجھوتہ ایکسپریس کو دہلی جانے سے روک دیا
تاریخی پس منظر
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 232
1980ء کی دہائی میں جب ہندوستانی پنجاب میں سکھوں نے آزادی کی تحریک کا آغاز کیا تو ہندوستان نے اس بغاوت کا الزام پاکستان پر لگا دیا۔ پاکستان کی جانب سے آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کو سلامتی کا بہانہ بنا کر دہلی جانے سے روک دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: چنیوٹ میں تیز رفتار کار الٹ گئی، 2 جاں بحق، 3 شدید زخمی
نئی شرائط
اس کے بعد یہ شرط عائد کی گئی کہ اب مسافروں کا امیگریشن دہلی کی بجائے اٹاری اسٹیشن پر ہوگا۔ اٹاری، واہگہ سے تقریباً 3 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، اور اس پر دونوں ممالک کی ٹرینیں آکر ختم ہوں گی، جس کے بعد میزبان ملک کی ریلوے اپنی گاڑی فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کا 16 سالہ نوجوان کچے کے ڈاکوؤں سے ہنی ٹریپ، تاوان کا مطالبہ
ٹرین کی دوبارہ فعالیت
اس سارے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کچھ وقت درکار تھا مگر لنگڑی لولی یہ ریل گاڑی ایک بار پھر چل نکلی۔ نئے انتظامات کے تحت لاہور سے سمجھوتہ ایکسپریس واہگہ پہنچتی، وہاں پاکستانی حکام امیگریشن کرتے، پھر یہ سرحد عبور کرکے اٹاری پہنچتی جہاں مسافر اتار کر واپس لاہور آجاتی۔ دہلی کے مسافروں کے لیے مخصوص گاڑی مہیا کی جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا ؟
اسٹیٹس کی تبدیلی
یکم جنوری 2002ء کو دہلی میں پارلیمنٹ پر دہشت گردی کے حملے کے بعد ہندوستان نے اس ٹرین کی سروس بند کر دی، جو دو سال بعد 15 جنوری 2004ء کو بحال ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ملیر جیل سے فرار مزید قیدی گرفتار ، دیگر کی تلاش جاری
بم دھماکہ
19 فروری 2007ء کو دہلی سے لاہور آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کو ہندوستانی دہشت گردوں نے بم سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں 70 بے گناہ پاکستانی مسافر جاں بحق ہوئے۔ اس واقعے کے بعد بھی یہ ٹرین جلد ہی دوبارہ چال پڑی۔
یہ بھی پڑھیں: ہم کائنیٹک حملے کا دفاع کرلیں گے، معیشت کا کیا ہوگا؟ مفتاح اسماعیل کا استفسار
بینظیر بھٹو کا قتل
27 دسمبر 2007ء کو بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان میں شورش پھوٹ پڑی، اور بے شمار ریل گاڑیوں کے انجن اور بوگیاں جلائی گئیں۔ اس واقعے کے سبب سمجھوتہ ایکسپریس کو بند کرنے کا مطالبہ پاکستان کی جانب سے کیا گیا۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








