شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں سربراہان مملکت کونسل اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری
شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں اجلاس کا اعلامیہ
بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن) شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں سربراہان مملکت کونسل اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: Sodi Arabia ya Pakistan: Kaun Musalman Ummah ki Qiyaadat Karega? – Fazlur Rehman
دنیا کی کثیرالقطبی سمت
’’جنگ‘‘ کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دنیا کثیرالقطبی، منصفانہ اور نمائندہ عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ فورم میں اقوام متحدہ میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ رکن ممالک نے اقوام متحدہ اور ایس سی او چارٹر کی پاسداری دہرائی۔ ریاستوں کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور عدم مداخلت بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ؛چوہنگ کے علاقے میں فائرنگ، چیئرمین امن کمیٹی جاں بحق
حملوں کی مذمت
ایس سی او مشترکہ اعلامیے میں پہلگام، جعفر ایکسپریس اور خضدار حملوں کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ فلسطین میں فوری، پائیدار جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے ایران پر جون 2025ء کے حملوں کی مذمت کی گئی اور کہا گیا ہے کہ حملے ایران کی قومی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا جسمانی ریمانڈ دینے کی پنجاب حکومت کی استدعا مسترد
شنگھائی اسپرٹ اور ترقی
مشترکہ اعلامیے میں شنگھائی اسپرٹ کے تحت باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کے عزم کی توثیق دیتے ہوئے یوریشیا میں برابری اور ناقابل تقسیم سیکیورٹی کا ڈھانچہ تشکیل دینے پر زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین کا اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ جی ایچ کیو کا دورہ، آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ون آن ون ملاقات
کثیرالجہتی تعاون کی حکمت عملی
ایس سی او نے کثیرالجہتی تعاون کی سمت واضح کرتے ہوئے ترقیاتی حکمتِ عملی 2035ء تک منظور کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: شہر قائد میں کہاں کتنی بارش ہوئی؟ محکمہ موسمیات نے اعداد و شمار جاری کر دیئے۔
دہشت گردی اور سیکیورٹی چیلنجز
مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی، علیٰحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا گیا اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یونیورسل سینٹر اور اینٹی ڈرگ سینٹر کے معاہدوں پر دستخط ہوئے۔
منشیات اور سائبر سیکیورٹی
اعلامیے کے مطابق منشیات، سائبر کرائم اور سرحدی سیکیورٹی پر مشترکہ تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کی حمایت اور پُرامن ایٹمی توانائی تک مساوی رسائی پر زور دیا گیا۔








