میانوالی پولیس نے دوسرا بڑا دہشتگردی حملہ ناکام بنا دیا
میانوالی پولیس کی دہشت گردوں کے خلاف کاروائی
میانوالی (ڈیلی پاکستان آن لائن) میانوالی پولیس دہشت گرد و شرپسند عناصر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئی، میانوالی پولیس نے ایک ہی دن میں دہشت گردوں کا دوسرا بڑا حملہ پسپا کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی اداروں میں چھٹی سے متعلق ترجمان محکمہ تعلیم کا بیان آ گیا
تھانہ مکڑوال میں دہشت گردوں کا حملہ
تھانہ مکڑوال میانوالی پولیس کو آج دن میں ملاخیل دربار خاصہ بابا کے علاقے میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ دہشت گردوں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی، جوابی فائرنگ میں پہاڑی علاقے میں فرار ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے 18 ویں ترمیم سے متعلق بیان پر حکومت سے وضاحت مانگ لی
سرچ آپریشن کی قیادت
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ڈی پی او میانوالی اختر فاروق، ایلیٹ فورس ٹیموں کے ہمراہ فوری علاقے میں پہنچے اور سرچ آپریشن شروع کیا۔ پہاڑی علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران 10 سے 12 دہشت گردوں نے پولیس پارٹی پر دوبارہ فائرنگ کی۔
یہ بھی پڑھیں: سونا 8100 روپے فی تولہ سستا
دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ
ڈی پی او میانوالی اختر فاروق علاقے میں سرچ آپریشن کی قیادت کر رہے تھے۔ پولیس و سی ٹی ڈی کے افسران و جوانوں نے محفوظ پوزیشن لے کر جوابی فائرنگ کی۔ دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیں: علامہ اقبالؒ کا تصورِ خودی جدید سائنس سے ثابت شدہ تجربے کا مرکز ہے: پروفیسر ادریس آزاد
بہادری سے مقابلہ
پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق میانوالی پولیس اور سی ٹی ڈی کے افسران و جوانوں نے نہایت بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، دہشت گرد اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پہاڑی علاقے میں فرار ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرہ علاقوں میں ٹینٹ سٹی قائم، ڈاکٹر اور طبی عملہ موجود، مفت ادویات دستیاب، ہنگامی صورتحال کے لیے عارضی ہیلی پیڈ کا انتظام
افسران کی حفاظت
پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق ڈی پی او میانوالی، ڈی ایس پی سی ٹی ڈی، ڈی ایس پی سرکل عیسیٰ خیل سمیت تمام پولیس افسران و اہلکار کراس فائرنگ میں محفوظ رہے۔
آئی جی پنجاب کا عزم
اس موقع پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرکے دم لیں گے۔








