میانوالی پولیس نے دوسرا بڑا دہشتگردی حملہ ناکام بنا دیا
میانوالی پولیس کی دہشت گردوں کے خلاف کاروائی
میانوالی (ڈیلی پاکستان آن لائن) میانوالی پولیس دہشت گرد و شرپسند عناصر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئی، میانوالی پولیس نے ایک ہی دن میں دہشت گردوں کا دوسرا بڑا حملہ پسپا کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کاش ہم قید ہی کر لیتے وہ جاتا لمحہ۔۔۔
تھانہ مکڑوال میں دہشت گردوں کا حملہ
تھانہ مکڑوال میانوالی پولیس کو آج دن میں ملاخیل دربار خاصہ بابا کے علاقے میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ دہشت گردوں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی، جوابی فائرنگ میں پہاڑی علاقے میں فرار ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: سویرا ندیم کے وزن میں کمی پر سنیتا مارشل اور روبینہ اشرف کا ردِعمل آگیا۔
سرچ آپریشن کی قیادت
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ڈی پی او میانوالی اختر فاروق، ایلیٹ فورس ٹیموں کے ہمراہ فوری علاقے میں پہنچے اور سرچ آپریشن شروع کیا۔ پہاڑی علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران 10 سے 12 دہشت گردوں نے پولیس پارٹی پر دوبارہ فائرنگ کی۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کا عجیب توہم پرست گاؤں جہاں کرسی اور چارپائی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں
دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ
ڈی پی او میانوالی اختر فاروق علاقے میں سرچ آپریشن کی قیادت کر رہے تھے۔ پولیس و سی ٹی ڈی کے افسران و جوانوں نے محفوظ پوزیشن لے کر جوابی فائرنگ کی۔ دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی بھی پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد میں شمولیت کا خواہش مند ہے، بلومبرگ کا دعویٰ
بہادری سے مقابلہ
پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق میانوالی پولیس اور سی ٹی ڈی کے افسران و جوانوں نے نہایت بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، دہشت گرد اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پہاڑی علاقے میں فرار ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت کا گوجرانوالہ چھاؤنی کا دورہ، تاریخ گواہ رہے گی کہ چند گھنٹوں میں مسلح افواج نے دشمن کو پسپا کیا: آصف علی زرداری کا خطاب
افسران کی حفاظت
پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق ڈی پی او میانوالی، ڈی ایس پی سی ٹی ڈی، ڈی ایس پی سرکل عیسیٰ خیل سمیت تمام پولیس افسران و اہلکار کراس فائرنگ میں محفوظ رہے۔
آئی جی پنجاب کا عزم
اس موقع پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرکے دم لیں گے۔








