بونیر میں طوفانی بارش کے بعد ندی نالے بپھر گئے، مساجد سے انخلا کیلئے اعلانات
سیلابی تباہی کا منظر
بونیر(ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر میں پیر بابا اور اطراف کے علاقے گزشتہ رات اچانک سیلابی تباہی کا منظر پیش کرنے لگے، جب موسلا دھار بارش کے بعد ندی نالوں میں شدید طغیانی آگئی، اور پانی گھروں، گلیوں اور بازاروں تک جا پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے کو فروری 2026 تک فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کا ہدف دیدیا گیا
محافظتی اقدامات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق مساجد سے مسلسل اعلانات کیے جا رہے ہیں، جن میں مقامی آبادی کو فوری انخلا کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ درجنوں خاندان محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایم 6 کی تعمیر وفاقی حکومت اور بینکوں کی فنڈنگ سے ہورہی ہے، عبدالعلیم خان
حکومتی ہدایات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے۔ ترجمان وزیراعلیٰ فراز مغل کے مطابق، بٹئی اور قدر نگر کے علاقوں سے پانی کا بہاؤ تیزی سے پیر بابا خوڑ کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث صورتحال مزید خطرناک ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طلباء کو 90دن میں لیپ ٹاپ دینے کا ہدف مقرر،میٹرک ، ایف ایس سی کے پوزیشن ہولڈرز اور 2ہزار اقلیتی طلباءکیلیے بھی خوشخبری
شہریوں میں خوف و ہراس
پانی مرکزی بازار کے عقب اور سڑک کے بالکل کنارے تک پہنچ چکا ہے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم کا مقصد پارلیمان کو عدلیہ کا زیر نگیں ہونے سے بچانا ہے، خواجہ آصف
ایمرجنسی خدمات کی تعیناتی
ڈپٹی کمشنر کاشف قیوم اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کاشف خان موقع پر موجود ہیں، جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف، ریسکیو 1122، محکمہ آبپاشی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پرائیویٹ حج اسکیم 2026 کے لیے بکنگ کی تاریخ آج ختم، وفاقی وزیر مذہبی امور کل اہم پریس کانفرنس کریں گے
ریاست کی نگرانی
فراز مغل کے مطابق صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور عوام کو باقاعدہ آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصر کے فاطمی حکمرانوں کا ایک قبرستان تھا جسے سلطان کے حکم پر تباہ و برباد کرکے کاروباری مرکز کی بنیاد رکھی گئی، اشیائے تجارت کی نمائش کا اہتمام بھی کیا جاتا
زرعی نقصانات
سیلابی ریلوں نے رابطہ سڑکوں کو ناقابلِ عبور بنا دیا ہے، کئی مقامات پر آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔ کھڑی فصلیں، سبزیاں، اور باغات پانی میں ڈوب چکے ہیں، جس سے زرعی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے.
دیگر متاثرہ علاقے
ادھر مالاکنڈ کے علاقے بٹ خیلہ، الہ ڈھنڈڈھیری اور گردونواح میں بھی گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے 3 ستمبر تک ممکنہ مزید بارشوں کے باعث سیلابی الرٹ برقرار رکھا ہے۔








