راولپنڈی میں اکیڈمی پرنسپل کی شادی کا جھانسہ دیکر طالبہ سے زیادتی، 2 بار اسقاط حمل بھی کرائے
تھانہ پیرودھائی میں سنگین واقعہ
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) تھانہ پیرودھائی کے علاقے میں اکیڈمی پرنسپل نے شادی کا جھانسہ دیکر امتحان کی تیاری کے بہانے میٹرک کی طالبہ کو اکیڈمی بلوایا اور دھمکیاں دیکر مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
یہ بھی پڑھیں: سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے
پولیس کی کارروائی
ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ حاملہ ہوئی تو ملزم نے نجی کلینک لے جا کر چیک اپ کرایا اور ادویات دیتا رہا جس سے حمل ضائع ہوگیا۔ اکیڈمی پرنسپل ضیا الرحمان کے خلاف زیادتی و اسقاط حمل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: میزان بیورجز کو پیسی کی انرجی ڈرنک ’سٹنگ‘ کا ڈیزائن کاپی کرنا بہت مہنگا پڑ گیا
طالبہ کی گواہی
مقدمے کے متن کے مطابق متاثرہ طالبہ کا کہنا ہے کہ سال 2023 میں اسد اکیڈمی خیابان سر سید میں میٹرک کلاس میں داخلہ لیا۔ مئی 2025 میں اکیڈمی کے پرنسپل ضیا الرحمان نے کہا کہ "میری اولاد نہیں، مجھ سے شادی کرلو"، پرنسپل کو منع کردیا اور کہا کہ ایسا کوئی رشتہ قائم کرنا ہے تو میرے والدین سے بات کرلیں۔ اس کے بعد حیلے بہانوں سے میرے قریب ہونا شروع کردیا، ٹیوشن پڑھانے اور اچھے نمبروں کا لالچ دینے لگا۔ طالبہ ہونے کے ناطے اپنے خاندان کی بدنامی کے ڈر سے خاموش رہی۔
یہ بھی پڑھیں: شرمیلا فاروقی کے چار شادیوں کے بیان پر دانش تیمور پر تنقید
زیادتی کا واقعہ
طالبہ نے کہا کہ 21 مئی کو پیپر کی تیاری کے لیے اکیڈمی بلوایا، وہاں گئی تو تمام اسٹوڈنٹس چھٹی کرکے جاچکے تھے، پرنسپل اکیڈمی میں بیٹھا تھا، تمام دروازے بند کرکے مجھ سے زبردستی زیادتی کی اور کسی کو بتانے کی صورت میں دھمکیاں دیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 5878 پوائنٹ بلند
حمل ضائع ہونے کا معاملہ
متاثرہ طالبہ نے مقدمے میں مزید کہا کہ "پرنسپل کہتا رہا کہ میں جلد تم سے شادی کرلوں گا، میری طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی تو صدر کے ایک نجی کلینک میں لے جاکر علاج کرایا۔ ایک ماہ بعد مجھے پتہ چلا کہ میں حاملہ ہوچکی ہوں، جس پر میں نے ضیا الرحمان کو بتایا تو اس نے کوئی دوائی لاکر دی۔"
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید کو سزا ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، جب سیاسی بات ہوگی تو اس پر بھرپور جواب دیں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
دوبارہ زیادتی اور بلیک میلنگ
مقدمے کے متن کے مطابق طالبہ نے کہا کہ "مجھے معلوم نہ تھا لیکن استعمال کرنے پر میری طبیعت خراب ہوگئی، بعد میں پتہ چلا کہ دوائی اسقاط حمل کی تھی، میرا حمل ضائع ہوگیا۔ ضیا الرحمان کو پتا چلا تو اس نے کہا اب تم کسی سے شادی کے قابل نہیں، میں ہی تم سے شادی کروں گا لیکن کچھ وقت درکار ہے۔"
متن مقدمہ میں مزید کہا گیا کہ "جولائی میں پرنسپل ضیا الرحمان نے اکیڈمی کے دفتر کے اندر ہی مجھ سے زبردستی زیادتی کی اور دھمکیاں دیں کہ کسی کو بتایا تو شادی نہیں کروں گا۔ اس کے بعد بھی مختلف اوقات میں وہ بلیک میل کرکے زیادتی کرتا رہا جس سے دوبارہ حاملہ ہوگئی۔"
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات، کارکردگی کو سراہا
خاندانی عزت کا خوف
متن کے مطابق لڑکی نے کہا کہ "ضیا الرحمان سے شادی کے ضد کی تو وہ ذہنی و جسمانی ٹارچر کرنے لگا، خاندان کی عزت کی وجہ سے سخت پریشان رہنے لگی جس سے حمل از خود ضائع ہوگیا۔"
یہ بھی پڑھیں: ایران کا اسرائیل کے 2 لڑاکا طیارے مار گرانے کا دعویٰ
انصاف کی درخواست
متاثرہ طالبہ نے کہا کہ "اکیڈمی پرنسپل ضیا الرحمان نے درس و تدریس کے مقدس پیشے کی آڑ میں شادی کا جھانسہ دیکر زبردستی زیادتی کرکے حاملہ کرنے اور پھر حمل ضائع کرکے سخت زیادتی کی اور میری زندگی برباد کردی، مذکورہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔"
پولیس کی تفصیلات
راولپنڈی پولیس نے کہا کہ مقدمہ درج کر لیا گیا، ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔








