حکومت افراط زر، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئے اپنے شاہانہ اخراجات کم کرے، تنخواہ دار کی طرح جاگیرداروں سے بھی انکم ٹیکس وصول کرے
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 145
یہ بھی پڑھیں: وزیر صحت و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق سے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی ملاقات
حکومت سے مطالبات
لہٰذا ہم اراکین لاہور ہائی کورٹ بار حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بجٹ پر فی الفور نظرثانی کرے۔ افراط زر، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے مثبت اقدامات کرے۔ اپنے شاہانہ اخراجات کم کرے۔ ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر ڈالنے کی بجائے جاگیرداروں سے بھی ملک کے مروجہ قانون کے مطابق اسی شرح سے انکم ٹیکس وصول کرے جو ملک کا مفلوک الحال تنخواہ دار طبقہ ایک عرصہ سے برداشت کرتا چلا آرہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صنم جاوید میری بہنوں کی طرح ہے، میری کل کی بات کو غلط مطلب دیا جارہا ہے،علی امین گنڈا پور
قرضوں کی وصولی کا مطالبہ
حکمرانوں، سیاستدانوں اور ان کے منظورنظر وڈیروں، لٹیروں کے ذمہ واجب الادا اربوں روپے کے قرضوں کو معاف کرنے کی بجائے معہ سود ان کی وصولی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے۔ بیرونی اور اندرونی قرضوں کے ذریعے حکومت بجٹ خسارہ پورا کرنے کی فرسودہ عادت ختم کرے تاکہ وطن عزیز کو قرضوں کی لعنت سے چھٹکارا دلاکر اسے خود کفالت اور خود انحصاری کی منزل سے ہمکنار کرنے کی جانب گامزن کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: اشیائے خورونوش کے نرخ میں کمی پر پوری ٹیم کو شاباش، عوام سے اپیل ہے جس شاپ پر ریٹ لسٹ نہ ہو، خریداری نہ کریں: وزیراعلیٰ مریم نواز
قرارداد کا پس منظر
لاہور، مورخہ 26-6-96 قرارداد رانا امیر احمد خاں ایڈووکیٹ کا مطالبہ بابت برطرفی بینظیر حکومت بوجہ سیاسی کارکنوں پر گولی چلانے اور نااہلی و کرپشن۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ائیرلائن نے برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن میں توسیع کا اعلان کردیا
اجلاس کی قرارداد
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا یہ اجلاس گزشتہ روز مورخہ 24-6-96 کو راولپنڈی اسلام آباد میں جماعت اسلامی اور دیگر حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے جلوس میں شامل پرامن اور غیر مسلح سیاسی کارکنوں پر بے نظیر حکومت کے ریاستی اداروں کی جانب سے گولی چلائے جانے کے سانحہ کی شدید مذمت کرتا ہے جس میں متعدد کارکن ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انگلش بلے باز نے جاوید میانداد کا 31سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا
فاشسٹ حکومتی پالیسیوں کی مذمت
فاشسٹ اور امریکی ٹوڈی حکومت نے ڈاکوؤں، سمگلروں اور قوم کا خون چوسنے والے سیاسی لٹیروں کو لوٹ مار اور بدامنی پھیلانے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے جبکہ سیاسی کارکنوں اور ملک و قوم کے بہی خواہوں پر لاٹھی گولی کا استعمال کر رہی ہے۔ وکلاء برادری نے ہمیشہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لئے جدوجہد کی ہے اور مارشل لاء کا راستہ روکا ہے جبکہ تقریباً سبھی سیاسی جماعتوں کے بیشتر مفاد پرست قائدین نے کبھی ایک مارشل لاء کا ساتھ دیا ہے تو کبھی دوسرے مارشل لاء کا ساتھ۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں موسمی انفلوئنزا H3N2 پھیلنے لگا، این آئی ایچ نے بچاؤ اور کنٹرول کے لیے ایڈوائزری جاری کردی۔
جمہوری اقدار کی حمایت
ہم اراکین بار ایسوسی ایشن آئندہ بھی مارشل لاء کے نفاذ کی کبھی حمایت نہیں کریں گے۔ لیکن حکومت جس طرح پارلیمنٹ اور عدلیہ جیسے حکومتی ستونوں کو کمزور، بے وقعت اور زمین بوس کرنے کی شرمناک پالیسی پر عمل پیرا ہے اور قانون سازی کی بجائے حکومتی آرڈیننسوں کے ذریعے غیر جمہوری طریق پر حکومت چلائی جا رہی ہے، اس کی مثال پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو، ایوبی مارشل لاء، یحییٰ خاں مارشل لاء اور ضیاء الحق مارشل لاء کے ادوار میں بھی ملتی ہے۔ یہ غیر جمہوری طرزِ عمل کسی جمہوری حکومت کے شایانِ شان نہیں ہے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








