خاتون اغوا کے کیس میں لاہور ہائی کورٹ کا سی سی پی او پر عدم اعتماد، آئی جی پنجاب کو کل طلب کر لیا
ہائی کورٹ کاہنہ کے اغوا کیس میں عدم پیشرفت پر آئی جی Punjab کو طلب
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائی کورٹ نے کاہنہ کے علاقہ سے 6 سال قبل اغوا ہونے والی خاتون کی بازیابی سے متعلق کیس میں عدم پیشرفت پر آئی جی پنجاب کو کل طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
عدم بازیابی کیس کی سماعت
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے مغویہ فوزیہ بی بی کی عدم بازیابی کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے سی سی پی او لاہور کی رپورٹ کو عدم اطمینان کا اظہار کیا اور تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ مغویہ کی عدم بازیابی پر سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ "سی سی پی او صاحب، آپ کے تفتیشی افسر نے ضمنی لکھی ہے، پڑھیں اس کو، ایسے ضمنی لکھی جاتی ہے ایسے اہم کیسز میں۔"
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف کا کچھ دیر میں قوم سے خطاب کا امکان، موجودہ صورتحال کے حوالے سے اعتماد میں لیں گے
تفتیشی افسر کی کارکردگی پر سوالات
عدالت نے کہا کہ "لگتا ہے اس تفتیشی افسر کو ترقی بھی دیدی گئی ہوگی"، چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ "تفتیشی نے سارے کام ایک ہی دن میں انجام دے دیئے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: سلمان صفدر کی عمران خان سے طویل ملاقات، رپورٹ آج سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔
مغویہ کی گمشدگی کا اثر
عدالت نے کہا کہ "کسی کا بچہ یا بچی ایک رات گھر نہ آئے تو گھر والوں کا کیا حال ہوگا"، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ "اتنا عرصہ ہوگیا خاتون کا کچھ پتہ نہیں کہاں ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی انتخابات، ٹرمپ نے 232 اور کملا ہیرس نے 198 الیکٹورل ووٹ لے لئے
سی سی پی او لاہور کا مؤقف
سی سی پی او لاہور نے مؤقف اپنایا کہ "لاپتہ لوگوں کے کیسز کیلئے الگ سے تحقیقات ہورہی ہیں"، لیکن چیف جسٹس نے کہا کہ "پیشرفت تو کہیں نظر نہیں آرہی، عدالت نے کہا کہ آئی جی پنجاب پیش ہوکر وضاحت دیں۔"
یہ بھی پڑھیں: سوئی گیس کمپنیوں میں گیس چوری اور لیکج سے قومی خزانے کو سالانہ 60 ارب روپے کا نقصان ہونے کا انکشاف
درخواست گزار کا بیان
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ "چھ سال سے زائد عرصہ سے خاتون غائب ہے، اس کی عمر 29 سال تھی، ایک بیٹا بھی تھا"، اور یہ بھی کہا کہ "درخواست گزار خاتون کے مطابق اس کی بیٹی کو جنات لے گئے ہیں، اس کا گھر میں لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔"
مقدمے کی تفصیلات
درخواست گزار نے بیٹی فوزیہ بی بی کے اغوا کا مقدمہ 25 مئی 2019 کو تھانہ کاہنہ میں درج کرایا، جس میں شوہر اور ساس کے خلاف الزام لگایا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ "پولیس نے بازیاب نہیں کیا، بیٹی کی جان کو خطرہ ہے، عدالت پولیس کو فوزیہ بی بی کی بازیابی کا حکم دے۔"








