ایران نے اسرائیلی حملے سے قبل ویپن گریڈ کے قریب افزودہ یورینیم کے ذخائر بڑھا لیے تھے، آئی اے ای اے
ایران کی یورینیم کی صورتحال
ویانا (ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) کی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق ایران نے اسرائیل کے 13 جون کو شروع ہونے والے فوجی حملوں سے پہلے ویپن گریڈ کے قریب افزودہ یورینیم کے ذخائر میں اضافہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کامران لاشاری کا استعفیٰ منظور، آفس چھوڑنے کی ہدایت
یورینیم کی مقدار میں اضافہ
العربیہ کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 13 جون تک ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کی مقدار 440.9 کلوگرام (972 پاؤنڈ) تھی، جو مئی میں جاری پچھلی رپورٹ کے مقابلے میں 32.3 کلوگرام (71.2 پاؤنڈ) زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ایران کی جانب سے فراہم کردہ معلومات، 17 مئی سے 12 جون تک آئی اے ای اے کی تصدیقی سرگرمیوں اور متعلقہ تنصیبات کے سابقہ آپریشنز کی بنیاد پر مرتب کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا کمشنرز اورڈپٹی کمشنرز سے ویڈیو لنک خطاب، سیلاب متاثرین کیلئے بہترین انتظامات کی ہدایت، ریسکیو اورریلیف کی رپورٹ بھی طلب کرلی
ہتھیاروں کی افزائش کا خطرہ
یہ سطح ہتھیاروں کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی سے صرف ایک قدم پیچھے ہے۔ 13 جون تک ایران کے یورینیم کے مجموعی ذخائر 9874.9 کلوگرام تھے، جو مئی کے مقابلے میں 627.3 کلوگرام زیادہ ہیں۔ تاہم اس تاریخ کے بعد سے آئی اے ای اے ایران کے اعلانات کی براہِ راست تصدیق نہیں کر سکا۔
یہ بھی پڑھیں: تیل اور گیس کے 40 نئے ذخائر دریافت، قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع
ایٹمی بم کی تیاری کا خدشہ
ماہرین کے مطابق تقریباً 42 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم، اگر مزید 90 فیصد تک افزودہ کیا جائے، تو ایک ایٹمی بم بنانے کے لیے کافی ہے۔
تشویش کی صورتحال
آئی اے ای اے نے کہا کہ ادارہ گزشتہ ڈھائی ماہ سے ایران کے ہتھیاروں کے قریب درجے والے ذخائر کی تصدیق نہیں کر سکا، جسے "انتہائی تشویشناک" قرار دیا گیا۔








