پنجاب میں مزید سینکڑوں دیہات زیر آب، 35 لاکھ افراد متاثر، لاکھوں ایکڑ پر فصلیں تباہ
سیلابی صورتحال کا خلاصہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) راوی، ستلج اور چناب میں خطرناک طغیانی اور طوفانی بارشوں نے پنجاب کے کئی شہروں میں ہولناک تباہی مچا دی ہے، مزید سیکڑوں دیہات زیر آب آ گئے، لاکھوں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہو گئیں، گجرات میں طوفانی بارش سے اربن فلڈنگ نے زندگی مفلوج بنا دی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی انتخابات: جب ایک مجرم یوجین وی ڈیبس نے جیل سے صدارتی مہم چلائی
متاثرہ علاقوں کی تعداد
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق راوی، چناب اور ستلج میں سیلاب کے باعث پنجاب کے 4000 کے قریب دیہات اور 35 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نظریہ زور پکڑ رہا ہے کہ صدر آصف زرداری اور شہباز شریف اعزاز نہیں، بلکہ بوجھ ہیں، فی الحال اس نظریے کی جیت ہوئی جو سولین سیٹ اپ کو ریاست کے لیے بہترین سمجھتے ہیں: سہیل وڑائچ
بھارتی ہائی کمیشن کی رپورٹ
بھارتی ہائی کمیشن نے انڈس واٹر کمیشن کو ایک اور مراسلہ بھیجا ہے جس کے مطابق دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروز پور کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے جس سے پاکستان کی حدود میں بھی مزید پانی کے ریلے آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ کا کانسٹیبل مبشر کی شہادت پر گہرے رنج کا اظہار، فسادیوں نے بے گناہ کی جان لے لی، معاف نہیں کریں گے: مریم نواز
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی معلومات
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن پنجاب کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، ہیڈ سدھنائی اور گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی کوریا کے صدر چین کا سرکاری دورہ کریں گے
دریاؤں میں پانی کی سطح
دریائے چناب میں ہیڈ خانکی، ہیڈ قادر آباد اور چنیوٹ برج پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ مرالہ، راوی سائفن، شاہدرہ، بلوکی اور ہیڈ سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ تریموں، جسڑ، اسلام اور میلسی سائفن پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا دارالحکومت تہران میں بتدریج انتظامی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ
خانیوال کا خطرہ
جب خانیوال کے قریب دریائے راوی اور چناب کے پانیوں کا سنگم ملتان اور مظفرگڑھ کے اضلاع کے لیے خطرہ بننے لگا، یہ دوہرا خطرہ پچھلے ہفتے کنٹرولڈ شگاف ڈالنے کے باوجود برقرار رہا۔
یہ بھی پڑھیں: الخدمت فاؤنڈیشن نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں انسانیت کی خدمت اور مدد کے لئے بر سر پیکار ہے ، ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن
قصور کی صورتحال
قصور میں ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں 3 لاکھ 19 ہزار کیوسک کا خطرناک ریلا گزر رہا ہے، جس نے نوری والا، بھیڈیاں، عثمان والا سمیت 100 سے زائد دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قاضی فائر عیسیٰ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی حمایت نہیں کرتے، علی محمد خان
لڈن کے نواح میں تباہی
لڈن کے نواحی علاقوں میں دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب نے تباہی مچا دی، مہر بلوچ کے مقام پر حفاظتی بند ٹوٹنے سے کئی بستیاں زیر آب آ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کے لیے بھارت نے تیسرے ملک سے مداخلت کروائی، پاکستان کے خلاف جارحیت پر حقائق نہیں چھپا سکتا: دفتر خارجہ
گجرات میں اربن فلڈنگ
گجرات میں 24 گھنٹوں میں 506 ملی میٹر بارش کے بعد بدترین اربن فلڈنگ نے تباہی مچا دی، اہم مقامات پر پانی جمع ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی افریقہ نے پاکستان کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی شکست دے دی
دیگر متاثرہ علاقہ جات
ادھر دریائے راوی کا سیلابی ریلا ملتان میں ریلوے برج تک پہنچ گیا، تحصیل شجاع آباد میں بھی سیلابی ریلے نے تباہی مچائی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتِ پنجاب کا اہم انتظامی فیصلہ، محمد مسعود مختار کو چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف کا اضافی چارج دے دیا گیا
پنجاب میں متاثرہ فصلیں
دوسری طرف پنجاب میں سیلاب سے 13 لاکھ 26 ہزار ایکڑ سے زائد فصلیں تباہ ہوگئیں، فیصل آباد ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
حکام کی جانب سے ہدایات
ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب میں سیلاب سے اموات کی تعداد 46 تک پہنچ گئی ہے۔








