پنجاب میں مزید سینکڑوں دیہات زیر آب، 35 لاکھ افراد متاثر، لاکھوں ایکڑ پر فصلیں تباہ
سیلابی صورتحال کا خلاصہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) راوی، ستلج اور چناب میں خطرناک طغیانی اور طوفانی بارشوں نے پنجاب کے کئی شہروں میں ہولناک تباہی مچا دی ہے، مزید سیکڑوں دیہات زیر آب آ گئے، لاکھوں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہو گئیں، گجرات میں طوفانی بارش سے اربن فلڈنگ نے زندگی مفلوج بنا دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ نے 23 ایرانی ماہی گیروں کو بچا لیا
متاثرہ علاقوں کی تعداد
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق راوی، چناب اور ستلج میں سیلاب کے باعث پنجاب کے 4000 کے قریب دیہات اور 35 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سعودی عرب میں سعودی وزیر انصاف ولید السمعانی سے ملاقات، مفاہمتی یاداشت پر دستخط
بھارتی ہائی کمیشن کی رپورٹ
بھارتی ہائی کمیشن نے انڈس واٹر کمیشن کو ایک اور مراسلہ بھیجا ہے جس کے مطابق دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروز پور کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے جس سے پاکستان کی حدود میں بھی مزید پانی کے ریلے آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی جنگی تیاریوں کے مقابلے میں پاکستان کی عسکری تیاریاں جدید ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی معلومات
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن پنجاب کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، ہیڈ سدھنائی اور گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ خولہ چودھری جیل سے رہا، 30 یوم کے لیے نظر بند کیا گیا
دریاؤں میں پانی کی سطح
دریائے چناب میں ہیڈ خانکی، ہیڈ قادر آباد اور چنیوٹ برج پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ مرالہ، راوی سائفن، شاہدرہ، بلوکی اور ہیڈ سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ تریموں، جسڑ، اسلام اور میلسی سائفن پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قطر 2026 کے لیے 24 ایل این جی کارگو منسوخ کرنے پر رضامند ہوگیا
خانیوال کا خطرہ
جب خانیوال کے قریب دریائے راوی اور چناب کے پانیوں کا سنگم ملتان اور مظفرگڑھ کے اضلاع کے لیے خطرہ بننے لگا، یہ دوہرا خطرہ پچھلے ہفتے کنٹرولڈ شگاف ڈالنے کے باوجود برقرار رہا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بزنس کونسل دبئی کے زیر اہتمام ینگ انٹرپرینیورز گیٹ ٹوگیدر کا انعقاد
قصور کی صورتحال
قصور میں ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں 3 لاکھ 19 ہزار کیوسک کا خطرناک ریلا گزر رہا ہے، جس نے نوری والا، بھیڈیاں، عثمان والا سمیت 100 سے زائد دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ایئر لائن کا لاہور سے بھی لندن کیلئے فضائی آپریشن شروع کرنے کا اعلان
لڈن کے نواح میں تباہی
لڈن کے نواحی علاقوں میں دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب نے تباہی مچا دی، مہر بلوچ کے مقام پر حفاظتی بند ٹوٹنے سے کئی بستیاں زیر آب آ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: جے ایس ایم یو میں دوا سازوں کے عالمی دن کی شاندار تقریب
گجرات میں اربن فلڈنگ
گجرات میں 24 گھنٹوں میں 506 ملی میٹر بارش کے بعد بدترین اربن فلڈنگ نے تباہی مچا دی، اہم مقامات پر پانی جمع ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ کا توازن تبدیل ہو رہا ہے، اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام کمزور پڑ رہا ہے: پاسداران انقلاب کا بڑا دعویٰ
دیگر متاثرہ علاقہ جات
ادھر دریائے راوی کا سیلابی ریلا ملتان میں ریلوے برج تک پہنچ گیا، تحصیل شجاع آباد میں بھی سیلابی ریلے نے تباہی مچائی۔
یہ بھی پڑھیں: محمود اچکزئی نے پی ٹی آئی سے سول نافرمانی کی تحریک موخر کرنے کی اپیل کردی
پنجاب میں متاثرہ فصلیں
دوسری طرف پنجاب میں سیلاب سے 13 لاکھ 26 ہزار ایکڑ سے زائد فصلیں تباہ ہوگئیں، فیصل آباد ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
حکام کی جانب سے ہدایات
ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب میں سیلاب سے اموات کی تعداد 46 تک پہنچ گئی ہے۔








