پختونخوا حکومت کا افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل فوری روکنے کا مطالبہ
پشاور: افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل روکا جائے
صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی اور خیر سگالی کے جذبے کے تحت افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو فوری طور پر روک دینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتی اعتراض مسترد، پی ٹی آئی کا اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود اچکزئی کا نام برقرار رکھنے کا فیصلہ
افغانستان کی موجودہ صورتحال
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق اپنے بیان میں ترجمان خیبر پختونخوا حکومت بیرسٹر سیف کا مزید کہنا ہے کہ افغانستان اس وقت تباہ کن زلزلے کے نقصانات سے دوچار ہے اور پہلے ہی غربت کے شکار ملک کے لیے مہاجرین کی واپسی کا بوجھ برداشت کرنا ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 2 بھائیوں کی گاڑی تلے کچل کر جان لینے والی لڑکی کہاں ہے؟ افسوسناک انکشاف
مزید مشکلات سے بچنے کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ حالیہ زلزلے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد ان ہی افراد کی ہے جو واپس جانے والے مہاجرین ہیں۔ ایسے حالات میں افغانستان کی مدد کی جانی چاہیے، نہ کہ اسے مزید مشکلات میں دھکیلا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پاکستان کا پاسپورٹ ڈیزائن مکمل طور پر تبدیل کرنے کا فیصلہ
اخلاقی ذاتی ذمہ داریاں
بیرسٹر سیف نے زور دیا کہ غربت کے شکار ملک پر مہاجرین کی واپسی کا بوجھ ڈالنا اخلاقی طور پر بھی درست نہیں اور تباہ کن زلزلے سے متاثرہ افغانستان کے لیے مہاجرین کو سنبھالنا کسی صورت ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میانداد کو بھی ڈاکوؤں نے نہیں بخشا، 12 بکرے چھین کر فرار
پاکستان کا کردار
انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان کو بھرپور تعاون اور مدد کی ضرورت ہے اور پڑوسی و مسلمان ملک ہونے کے ناتے یہ پاکستان کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے وسائل سے بڑھ کر افغان زلزلہ متاثرین کی مدد کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ کی امدادی اقدامات
مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے افغان سفیر سے ملاقات میں متاثرین کے لیے صحت کی مفت سہولیات سمیت ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے جب کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر 35 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔








