پختونخوا حکومت کا افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل فوری روکنے کا مطالبہ
پشاور: افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل روکا جائے
صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی اور خیر سگالی کے جذبے کے تحت افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو فوری طور پر روک دینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں ملک میں فائر وال لگانے، پھر ختم کرنے پر سوالات اٹھ گئے
افغانستان کی موجودہ صورتحال
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق اپنے بیان میں ترجمان خیبر پختونخوا حکومت بیرسٹر سیف کا مزید کہنا ہے کہ افغانستان اس وقت تباہ کن زلزلے کے نقصانات سے دوچار ہے اور پہلے ہی غربت کے شکار ملک کے لیے مہاجرین کی واپسی کا بوجھ برداشت کرنا ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز دنیا بھر میں تماشہ بن گئے،بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی بے اعتنائی , بھارتی شہری اور میڈیا ہیجان میں مبتلا ، ویڈیو بھی دیکھیں
مزید مشکلات سے بچنے کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ حالیہ زلزلے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد ان ہی افراد کی ہے جو واپس جانے والے مہاجرین ہیں۔ ایسے حالات میں افغانستان کی مدد کی جانی چاہیے، نہ کہ اسے مزید مشکلات میں دھکیلا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: حالات نوجوانوں کو مایوس کررہے ہیں، حکمرانوں کی کسی ترجیح میں تعلیم ہے نہ روز گار: حافظ نعیم الرحمان
اخلاقی ذاتی ذمہ داریاں
بیرسٹر سیف نے زور دیا کہ غربت کے شکار ملک پر مہاجرین کی واپسی کا بوجھ ڈالنا اخلاقی طور پر بھی درست نہیں اور تباہ کن زلزلے سے متاثرہ افغانستان کے لیے مہاجرین کو سنبھالنا کسی صورت ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہیڈ خانکی میں تاریخ میں پہلی مرتبہ 10 لاکھ کیوسک سے بڑا پانی کا ریلہ، ہیڈ قادرآباد میں پانی نکالنا بڑا چیلنج، شگاف ڈالنے کی تیاری
پاکستان کا کردار
انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان کو بھرپور تعاون اور مدد کی ضرورت ہے اور پڑوسی و مسلمان ملک ہونے کے ناتے یہ پاکستان کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے وسائل سے بڑھ کر افغان زلزلہ متاثرین کی مدد کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ کی امدادی اقدامات
مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے افغان سفیر سے ملاقات میں متاثرین کے لیے صحت کی مفت سہولیات سمیت ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے جب کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر 35 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔








