اگر سندھ حکومت انفراسٹرکچر سیس کے پیسے کراچی کے انفرا اسٹرکچر پر لگا دے تو تمام مسائل حل ہو جائیں، خرم اعجاز
خرم اعجاز کا موقف
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایف پی سی سی آئی کے برسر اقتدار گروپ بزنس مین پینل کے سیکریٹری جنرل اور سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی خرم اعجاز نے کہا ہے کہ اگر سندھ حکومت انفراسٹرکچر سیس کے اربوں روپے کراچی کے انفرا اسٹرکچر پر لگا دے تو شہر کے تمام مسائل حل ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل سے آؤٹ ہونے کے بعد کراچی کنگز کے کپتان ڈیوڈ وارنر کا مؤقف آگیا، پاکستانیوں کے دل جیت لیے
کراچی کی معیشت کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ سٹی ہے اور ملک میں معاشی حب کے نام سے جاناجاتا ہے۔ ہماری 90 فیصد درآمدات اور برآمدات کراچی سے ہی ہو تی ہیں لیکن افسوس کہ اس شہر کا انفرا سٹرکچر ایک دن کی بارش میں ہی بیٹھ گیا۔ پورٹ کے راستے، سڑکیں اور نکاسی آب کا نظام انتہائی خستہ حال ہونے سے بارش کی وجہ سے ہزاروں گاڑیاں گھنٹوں پھنس گئیں، ٹریفک جام نے پورے لاجسٹک چین کو مفلوج کردیا اور درآمدکنندگان و برآمدکنندگان اور ٹرانسپورٹرز کو بھاری مالی نقصانات اٹھانے پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: پیکٹا نے جماعت ہشتم کے امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا
انفراسٹرکچر سیس کی وصولی
خرم اعجاز نے کہا کہ سندھ حکومت نے مالی سال 2024-25 میں 160 ارب روپے انفراسٹرکچر سیس کی مد میں وصول کیے۔ 5 سال میں یہ رقم 800 ارب روپے بن جاتی ہے لیکن اس کے باوجود کراچی کا انفراسٹرکچر بارش کا ایک دن بھی نہیں سنبھال سکا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیس سندھ حکومت کسی اضافی کاوش کے بغیر کسٹمز کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے وصول کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایس او ٹی ایونٹس 2024 کا کراچی میں آغاز
سندھ حکومت سے مطالبات
خرم اعجاز نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ انفراسٹرکچر سیس کی مجموعی آمدنی میں سے ایک معقول اور مقررہ حصہ کراچی بندرگاہ اور اس کے اردگرد کے علاقوں کی بہتری پر لازمی خرچ کیا جائے۔ باقی رقم صوبے کے دیگر منصوبوں پر استعمال کی جا سکتی ہے لیکن شرط یہ ہو کہ یہ صرف انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پر خرچ ہو۔
مناسب استعمال کے مطالبات
ہر سال ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی جائے جس میں یہ واضح ہو کہ کتنی وصولی ہوئی اور کن منصوبوں پر کتنی رقم خرچ کی گئی۔ تاجر برادری حکومت سے کوئی رعایت یا استثنیٰ نہیں مانگ رہی۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ جو رقوم انفراسٹرکچر کے نام پر وصول کی جاتی ہیں وہ حقیقی معنوں میں انفراسٹرکچر بہتر بنانے پر ہی لگائی جائیں تاکہ پاکستان کی تجارت و معیشت کو سہولت ملے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے پاس وسائل موجود ہیں ان کے درست اور کرپشن سے پاک استعمال کی ضرورت ہے۔








