سپریم کورٹ: منشیات فروشی کے ملزم کی ضمانت مسترد
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے منشیات فروخت کرنے کے ملزم فرمان کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کردی۔
یہ بھی پڑھیں: واہگہ کے علاوہ ایک اور ریلوے لائن بھی ہے جو پاکستان اور ہندوستان کے بیچ پل کا کام دیتی رہی ہے، یہ لائن کوٹری کے پاس حیدرآباد سے چلتی ہے۔
سماعت کے دوران سوالات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق دورانِ سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ ملزم کے خلاف چالان تاخیر سے کیوں جمع ہوا؟ کیا اتنی بڑی انکوائری تھی جو اتنا وقت لگ گیا؟
یہ بھی پڑھیں: اگر بھارت نے شرارت کی تو ایک کے بدلے دو کے تناسب سے جواب دیا جائے گا، محسن نقوی
سرکاری وکیل کا مؤقف
سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم منشیات کی پڑیاں فروخت کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا جھنگ میں بس حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار
ملزم کے وکیل کا دفاع
ملزم کے وکیل نے کہا کہ اس پر سمگلنگ کا کوئی الزام نہیں، لیکن جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیئے کہ منشیات کی برآمدگی پر سیکشن 9 سی لگ جاتا ہے، یہاں ضمانت کا کیس نہیں بنتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکیل صاحب، آپ چاہے جتنی تقریر کر لیں، ضمانت نہیں ہو سکتی۔
مکالمہ اور فیصلے کا اختتام
دورانِ مکالمہ جسٹس شہزاد ملک نے ہنستے ہوئے کہا کہ آج کل آپ کے اشارے گردش میں ہیں، اس پر وکیل ریاست علی آزاد نے موکل کی درخواست واپس لے لی۔








