اسلام آباد پر سب حکمرانی چاہتے ہیں، کوئی ذمہ داری نہیں لیتا، ہر چیز ادھیڑ کر رکھ دی گئی : رؤوف کلاسرا
اسلام آباد کی صورتحال پر رؤوف کلاسرا کی مایوسی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی رؤوف کلاسرا وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی صورتحال پر مایوس دکھائی دیئے اور ایک بار پھر انتظامیہ پر برس پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: تحفظات دور ورنہ ناصر باغ پراجیکٹ روک دیا جائے گا: لاہور ہائیکورٹ
حکومت کی ناقص کارکردگی
سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو سب بابوز اور حکمران پہلے سے زیادہ بگاڑ کر جاتے ہیں، اس شہر کو کوئی اون نہیں کرتا، سب اس پر حکمرانی چاہتے ہیں، اس کی ذمہ داری نہیں لیتے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی کے لیے کتنے افراد نے بطور سول ڈیفنس رضاکار رجسٹریشن کروائی؟ جانیے
شہر کی بربادی
شہر پر ان دنوں سب سے برے دن آئے ہوئے ہیں، ہر چیز ادھیڑ کر رکھ دی گئی۔ ہم سمجھے تھے کہ چند نوجوان افسران اس شہر کو اپنا سمجھیں گے، اسے اپنا گھر سمجھ کر خیال کریں گے لیکن وہ الٹا چمن اجاڑنے پر لگ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: تاریخی بلندی پر پہنچنے کے بعد سونے کی قیمت میں بڑی کمی
بدترین فوجی خدمات
ان کا کہنا تھا کہ بدترین صفائی، ہر طرف گندگی، بدترین ٹریفک اور بدترین قانون کی حکمرانی ہے۔ شہر میں سب کچھ آٹو پائلٹ پر چل رہا ہے۔ اگر آپ خود چوک پر ریڈ لائٹ کی پابندی کریں تو مہربانی کریں، لیکن موٹر بائیکس یا گاڑیوں کو تیز ڈرائیونگ، ون وے کی خلاف ورزیوں پر کوئی نہیں روکتا ٹوکتا۔ اچھا خاصا شہر دو تین برسوں میں خراب کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی؛ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے 4 ایجنٹ گرفتار
مالی بے قاعدگیاں
صحافی کا کہنا تھا کہ اربوں روپے اندھا دھند اڑائے جا رہے ہیں کہ شاید دوبارہ زندگی نہیں ملنی۔ پتہ نہیں یہ سارے بابوز اور وزیراعظم وزیر سیاستدان بیرون ملک جاتے ہیں وہاں سے یہ کیا سیکھ کر آتے ہیں کہ اپنے شہروں کو کیسے صاف ستھرا رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 76 ممالک میں 21 ہزار 406 پاکستانی قید
شہریوں کے مشورے
وہ دراصل اپنی اس ویڈیو پر شہریوں کے تبصرے کے بعد ردعمل دے رہے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ کلثوم ہسپتال کے سامنے فٹ پاتھ دھیرے دھیرے پارکنگ لاٹ بن رہا ہے۔ شہریوں نے تجاویز دیں کہ ان موٹرسائیکلوں کی ہوا نکال دیں۔ ناصر بشیر نے لکھا کہ ہمارے یہاں اسی طرح قبضے ہوتے ہیں اور پھر کچھ لوگ اپنا حصہ لے کر چلے جاتے ہیں۔
ٹریفک اور روڈ کی حالت
کسی نے ٹریفک پولیس کو کوسا تو کسی نے پارکنگ کی جگہ نہ ملنے اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کا رونا رویا۔








