اسلام آباد پر سب حکمرانی چاہتے ہیں، کوئی ذمہ داری نہیں لیتا، ہر چیز ادھیڑ کر رکھ دی گئی : رؤوف کلاسرا
اسلام آباد کی صورتحال پر رؤوف کلاسرا کی مایوسی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی رؤوف کلاسرا وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی صورتحال پر مایوس دکھائی دیئے اور ایک بار پھر انتظامیہ پر برس پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے نجم الحسن شانتو نے کپتان کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا
حکومت کی ناقص کارکردگی
سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو سب بابوز اور حکمران پہلے سے زیادہ بگاڑ کر جاتے ہیں، اس شہر کو کوئی اون نہیں کرتا، سب اس پر حکمرانی چاہتے ہیں، اس کی ذمہ داری نہیں لیتے۔
یہ بھی پڑھیں: شوہر نے مجھے ڈالرز میں عیدی دی: حنا نیازی
شہر کی بربادی
شہر پر ان دنوں سب سے برے دن آئے ہوئے ہیں، ہر چیز ادھیڑ کر رکھ دی گئی۔ ہم سمجھے تھے کہ چند نوجوان افسران اس شہر کو اپنا سمجھیں گے، اسے اپنا گھر سمجھ کر خیال کریں گے لیکن وہ الٹا چمن اجاڑنے پر لگ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: لدھیانہ میں سردار موہن سنگھ ثقافتی میلے کی اختتامی تقریب میں شرکت کی، دس سے پندرہ ہزار افراد کا اجتماع تھا، بیرون ممالک سے آئے وفود شامل تھے
بدترین فوجی خدمات
ان کا کہنا تھا کہ بدترین صفائی، ہر طرف گندگی، بدترین ٹریفک اور بدترین قانون کی حکمرانی ہے۔ شہر میں سب کچھ آٹو پائلٹ پر چل رہا ہے۔ اگر آپ خود چوک پر ریڈ لائٹ کی پابندی کریں تو مہربانی کریں، لیکن موٹر بائیکس یا گاڑیوں کو تیز ڈرائیونگ، ون وے کی خلاف ورزیوں پر کوئی نہیں روکتا ٹوکتا۔ اچھا خاصا شہر دو تین برسوں میں خراب کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
مالی بے قاعدگیاں
صحافی کا کہنا تھا کہ اربوں روپے اندھا دھند اڑائے جا رہے ہیں کہ شاید دوبارہ زندگی نہیں ملنی۔ پتہ نہیں یہ سارے بابوز اور وزیراعظم وزیر سیاستدان بیرون ملک جاتے ہیں وہاں سے یہ کیا سیکھ کر آتے ہیں کہ اپنے شہروں کو کیسے صاف ستھرا رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امید ہے کہ سعودی عرب جلد ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو جائے گا، ٹرمپ
شہریوں کے مشورے
وہ دراصل اپنی اس ویڈیو پر شہریوں کے تبصرے کے بعد ردعمل دے رہے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ کلثوم ہسپتال کے سامنے فٹ پاتھ دھیرے دھیرے پارکنگ لاٹ بن رہا ہے۔ شہریوں نے تجاویز دیں کہ ان موٹرسائیکلوں کی ہوا نکال دیں۔ ناصر بشیر نے لکھا کہ ہمارے یہاں اسی طرح قبضے ہوتے ہیں اور پھر کچھ لوگ اپنا حصہ لے کر چلے جاتے ہیں۔
ٹریفک اور روڈ کی حالت
کسی نے ٹریفک پولیس کو کوسا تو کسی نے پارکنگ کی جگہ نہ ملنے اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کا رونا رویا۔








