اسلام آباد پر سب حکمرانی چاہتے ہیں، کوئی ذمہ داری نہیں لیتا، ہر چیز ادھیڑ کر رکھ دی گئی : رؤوف کلاسرا
اسلام آباد کی صورتحال پر رؤوف کلاسرا کی مایوسی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی رؤوف کلاسرا وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی صورتحال پر مایوس دکھائی دیئے اور ایک بار پھر انتظامیہ پر برس پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: فیروزوالہ میں افسوسناک واقعہ، 25 سالہ پولیس کانسٹیبل نے خودکشی کر لی
حکومت کی ناقص کارکردگی
سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو سب بابوز اور حکمران پہلے سے زیادہ بگاڑ کر جاتے ہیں، اس شہر کو کوئی اون نہیں کرتا، سب اس پر حکمرانی چاہتے ہیں، اس کی ذمہ داری نہیں لیتے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سولر بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ، دیوان انٹرنیشنل نے چین کی بہترین کمپنیوں کو پاکستان مدعو کیا
شہر کی بربادی
شہر پر ان دنوں سب سے برے دن آئے ہوئے ہیں، ہر چیز ادھیڑ کر رکھ دی گئی۔ ہم سمجھے تھے کہ چند نوجوان افسران اس شہر کو اپنا سمجھیں گے، اسے اپنا گھر سمجھ کر خیال کریں گے لیکن وہ الٹا چمن اجاڑنے پر لگ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: جب پی ٹی آئی کے مظاہرین اسلام آباد میں داخل ہوئے اور پولیس سے مقابلہ ہوا
بدترین فوجی خدمات
ان کا کہنا تھا کہ بدترین صفائی، ہر طرف گندگی، بدترین ٹریفک اور بدترین قانون کی حکمرانی ہے۔ شہر میں سب کچھ آٹو پائلٹ پر چل رہا ہے۔ اگر آپ خود چوک پر ریڈ لائٹ کی پابندی کریں تو مہربانی کریں، لیکن موٹر بائیکس یا گاڑیوں کو تیز ڈرائیونگ، ون وے کی خلاف ورزیوں پر کوئی نہیں روکتا ٹوکتا۔ اچھا خاصا شہر دو تین برسوں میں خراب کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں خواجہ سرہ کے قتل کی شرمناک وجہ سامنے آگئی، ملزم گرفتار
مالی بے قاعدگیاں
صحافی کا کہنا تھا کہ اربوں روپے اندھا دھند اڑائے جا رہے ہیں کہ شاید دوبارہ زندگی نہیں ملنی۔ پتہ نہیں یہ سارے بابوز اور وزیراعظم وزیر سیاستدان بیرون ملک جاتے ہیں وہاں سے یہ کیا سیکھ کر آتے ہیں کہ اپنے شہروں کو کیسے صاف ستھرا رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: منشیات کے سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع، 40 کاروائیوں میں 30 گرفتار، ایک اشتہاری ہلاک
شہریوں کے مشورے
وہ دراصل اپنی اس ویڈیو پر شہریوں کے تبصرے کے بعد ردعمل دے رہے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ کلثوم ہسپتال کے سامنے فٹ پاتھ دھیرے دھیرے پارکنگ لاٹ بن رہا ہے۔ شہریوں نے تجاویز دیں کہ ان موٹرسائیکلوں کی ہوا نکال دیں۔ ناصر بشیر نے لکھا کہ ہمارے یہاں اسی طرح قبضے ہوتے ہیں اور پھر کچھ لوگ اپنا حصہ لے کر چلے جاتے ہیں۔
ٹریفک اور روڈ کی حالت
کسی نے ٹریفک پولیس کو کوسا تو کسی نے پارکنگ کی جگہ نہ ملنے اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کا رونا رویا۔








