جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے جج کا خط
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے پیونی جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی ریلوے ہیڈ کوارٹرز آمد، حنیف عباسی کے زیر صدارت خصوصی اجلاس میں شرکت، اہم فیصلے
خط کی تفصیلات
جیو نیوز کے مطابق خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ موسٹ سینئر جج ہونے کے ناطے ادارے کی ڈیوٹی کیلئے خط لکھ رہا ہوں، متعدد خطوط لکھے، آپ کا نہ تحریری نہ زبانی جواب ملا۔8 ستمبر کو جوڈیشل کانفرنس میں عوامی سطح پر سوالات کے جواب دیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب: لاہور ڈویژن میں 500 فوجی افسران اور جوان امدادی کارروائیوں میں مصروف، 21 ریسکیو اینڈ ریلیف کیمپس قائم
سوالات کا سلسلہ
جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا؟ سپریم کورٹ رولز کی منظوری فل کورٹ کے بجائے سرکولیشن کے ذریعے کیوں کی گئی؟ اختلافی نوٹ جاری کرنے سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کیلئے انفرادی طور پر مشاورت کیوں کی گئی؟
یہ بھی پڑھیں: کالج طالبہ نے ڈیپارٹمنٹ ہیڈ کی جانب سے ہراساں کیے جانے پر خود کو آگ لگا لی
ججو کی چھٹیاں اور دیگر امور
جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں سوال کیا کہ ججز کی چھٹیوں پر جنرل آرڈر کیوں جاری کیا گیا؟ 26 ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں پر اوریجنل فل کورٹ کیوں تشکیل نہیں دیا گیا؟
ججز کی خودمختاری
خط کے متن کے مطابق ججز کو خودمختاری کے بجائے آپ انہیں کنٹرولڈ فورس کے طور پر پروان چڑھا رہے ہیں، امید ہے نئے عدالتی سال کے آغاز کی تقریب میں ان سوالات کا جواب دیا جائے گا۔








