دبنگ قسم کے جج تھے، ڈسپلن کے بھی سخت۔ دفتری اوقات کے بعد لطیفے سنا کر ہنسی سے لوٹ پوٹ کر دیتے، آفس جانے میں دیر ہو جاتی تو بلا بھیجتے
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 280
یہ بھی پڑھیں: ایرانی حملوں کا خوف، اِدھر سائرن بجے، اُدھر اسرائیلی اینکرز نشریات چھوڑ کر بھاگ گئے
پولنگ کے دوسرے مرحلے کی تفصیلات
دوسرے مرحلے میں پولنگ کے بعد سامان اور نتیجہ موصول کرنا، رزلٹ تیار کرانا اور بیگز کو سرکاری سٹرونگ روم یعنی خزانہ میں جمع کرانا شامل تھے۔ یہ سارے کام میرے اور میری ٹیم کے ذمہ تھے جبکہ کاغذات نامزدگی وصول کرنا، ان کی جانچ پڑتال کرنا، اعتراضات کی سماعت کرنا، الیکشن نشان الاٹ کرنا، ریٹرنگ افسر کی ذمہ داری تھی۔ ہر ترقیاتی مرکز کی یونین کونسلوں کے لے لئے علیٰحدہ علیٰحدہ ریٹرننگ افسر تھے۔ میری ڈیوٹی اے سی فیروزوالا کے ساتھ بطور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: زمین پھٹی نہ کسی دھماکہ خیز مواد کے شواہد ملے، نئی دہلی دھماکے نے کئی ’’ جھوٹ ‘‘ بے نقاب کر دیئے
ایڈیشنل سیشن جج
ایڈیشنل سیشن جج فیروز والارانا ظہور الحق تھے۔ باغ و بہار شخصیت۔ انہوں نے میرے بارے چوہدری ریاض سیشن جج گوجرانوالہ سے سن رکھا تھا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے درخواست کرکے میری ڈیوٹی اپنے ساتھ بطور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسر لگوا لی لیکن اے سی کے ساتھ اس انڈر سٹینڈنگ سے کہ میں اے سی کی بھی معاونت جاری رکھوں گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی جہاز ڈوبنے کا واقعہ، سمندر سے متعدد لاشیں نکال لی گئیں، سری لنکن بحریہ نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں
اے سی فیروزوالا کی وضاحت
اے سی فیروز والا وجیہ اللہ کنڈی ایک سلجھے ہوئے، سمارٹ، لمبے اونچے قد کے خوش لباس، خاندانی انسان تھے۔ مروت اور خلوص سے ملتے۔ الیکشن کا کام انہوں نے مجھ سے ہی سیکھا اور یوں الیکشن معاملات میں مجھے اپنا استاد مانتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے حوصلے بلند ہیں اور ہمارا جواب فیصلہ کن ہوگا، وزیر داخلہ محسن نقوی
مصروفیت اور اوقات کار
2 افسران کے ساتھ ذمہ داری نبھانے سے میری مصروفیت میں بہت اضافہ ہو گیا تھا۔ صبح 9 بجے دفتر آتا۔ جاڑے کا موسم تھا اور دن پل جھپکتے ہی گزر جاتا، اور واپس گھر جاتے اکثر کافی رات بیت چکی ہوتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے سعودی عرب کو ساڑھے تین ارب ڈالر کا امریکی اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دیدی
رانا ظہور الحق کی شخصیت
رانا ظہور الحق بڑے دبنگ قسم کے جج تھے۔ قانون اور قائدہ کے مطابق کام کرنے والے، ڈسپلن کے بھی سخت۔ دفتری اوقات کے بعد اچھے گندے لطیفے سنا کر ہنسی سے لوٹ پوٹ کر دیتے تھے۔ چند دنوں میں ہی ان سے اچھی خاصی یاد اللہ ہو گئی۔ مجھے ان کے آفس جانے میں دیر ہو جاتی تو بلا بھیجتے اور محسوس ہوتا وہ بھی میری کمپنی مس کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ؛ غیرت کے نام پر خاتون سمیت 2 افراد کے قتل کیس میں نامزد ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور
الیکشن کے روز کی سرگرمیاں
صبح سے دوپہر تک ان کے ساتھ کام کرتا، بعد دوپہر سے شام تک اے سی کے ساتھ اور پھر دوبارہ رانا صاحب کے پاس آ جاتا اور رات گئے تک انہی کے ساتھ رہتا۔ سبھی کام خوش اسلوبی سے انجام پا گئے۔ سامان کی ترسیل فوج کی نگرانی میں ہو ئی۔ تحصیل فیروز والا آئے فوجی دستے کا انچارج لمبا اونچا کرنل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جھوٹ، خوشامد کا کلچر، تعصب، تنگ نظری، توہمات اور عدم برداشت کے سائے دور کیے جا سکتے ہیں،ہماری قوم مثالی معاشرے کے قیام کی حامل بن سکتی ہے۔
پولنگ کا جائزہ
الیکشن والے دن صبح کے 10 بجے تک کوئی سنجیدہ قسم کی الیکشن شکایت موصول نہ ہوئی تو جج صاحب کی خواہش پر میں سرکاری جیپ میں عزیز اور اشرف کے ہمراہ حلقے میں پولنگ کا جائزہ لینے نکلا۔ اس دور میں موبائل فون نیا نیا آیا تھا اور آج کی طرح اتنا عام نہیں تھا۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








