دبنگ قسم کے جج تھے، ڈسپلن کے بھی سخت۔ دفتری اوقات کے بعد لطیفے سنا کر ہنسی سے لوٹ پوٹ کر دیتے، آفس جانے میں دیر ہو جاتی تو بلا بھیجتے
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 280
یہ بھی پڑھیں: لائیو پروگرام کے دوران مداخلت، احسن اقبال نے وضاحت پیش کردی
پولنگ کے دوسرے مرحلے کی تفصیلات
دوسرے مرحلے میں پولنگ کے بعد سامان اور نتیجہ موصول کرنا، رزلٹ تیار کرانا اور بیگز کو سرکاری سٹرونگ روم یعنی خزانہ میں جمع کرانا شامل تھے۔ یہ سارے کام میرے اور میری ٹیم کے ذمہ تھے جبکہ کاغذات نامزدگی وصول کرنا، ان کی جانچ پڑتال کرنا، اعتراضات کی سماعت کرنا، الیکشن نشان الاٹ کرنا، ریٹرنگ افسر کی ذمہ داری تھی۔ ہر ترقیاتی مرکز کی یونین کونسلوں کے لے لئے علیٰحدہ علیٰحدہ ریٹرننگ افسر تھے۔ میری ڈیوٹی اے سی فیروزوالا کے ساتھ بطور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: قتل کیس ؛سپریم کورٹ نے ویڈیو لنک سے ورثا سے راضی نامے کی تصدیق مسترد کردی
ایڈیشنل سیشن جج
ایڈیشنل سیشن جج فیروز والارانا ظہور الحق تھے۔ باغ و بہار شخصیت۔ انہوں نے میرے بارے چوہدری ریاض سیشن جج گوجرانوالہ سے سن رکھا تھا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے درخواست کرکے میری ڈیوٹی اپنے ساتھ بطور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسر لگوا لی لیکن اے سی کے ساتھ اس انڈر سٹینڈنگ سے کہ میں اے سی کی بھی معاونت جاری رکھوں گا۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید کا کورٹ مارشل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اعلامیہ بھی آ گیا
اے سی فیروزوالا کی وضاحت
اے سی فیروز والا وجیہ اللہ کنڈی ایک سلجھے ہوئے، سمارٹ، لمبے اونچے قد کے خوش لباس، خاندانی انسان تھے۔ مروت اور خلوص سے ملتے۔ الیکشن کا کام انہوں نے مجھ سے ہی سیکھا اور یوں الیکشن معاملات میں مجھے اپنا استاد مانتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ’کوبرا وزارتی اجلاس‘ کی صدارت کریں گے
مصروفیت اور اوقات کار
2 افسران کے ساتھ ذمہ داری نبھانے سے میری مصروفیت میں بہت اضافہ ہو گیا تھا۔ صبح 9 بجے دفتر آتا۔ جاڑے کا موسم تھا اور دن پل جھپکتے ہی گزر جاتا، اور واپس گھر جاتے اکثر کافی رات بیت چکی ہوتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: میری یہ سوچ 1960-61ء کے دور کی ہے، ملک میں مارشل لائی دور تھا، یوتھ موومنٹ میں سینئر لوگ تھے جنہوں نے تحریک پاکستان میں بہت کام کیا تھا۔
رانا ظہور الحق کی شخصیت
رانا ظہور الحق بڑے دبنگ قسم کے جج تھے۔ قانون اور قائدہ کے مطابق کام کرنے والے، ڈسپلن کے بھی سخت۔ دفتری اوقات کے بعد اچھے گندے لطیفے سنا کر ہنسی سے لوٹ پوٹ کر دیتے تھے۔ چند دنوں میں ہی ان سے اچھی خاصی یاد اللہ ہو گئی۔ مجھے ان کے آفس جانے میں دیر ہو جاتی تو بلا بھیجتے اور محسوس ہوتا وہ بھی میری کمپنی مس کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پشپا 2 فلم کے ہیرو نے کتنا معاوضہ لیا؟ جان کر حیران ہوجائیں گے
الیکشن کے روز کی سرگرمیاں
صبح سے دوپہر تک ان کے ساتھ کام کرتا، بعد دوپہر سے شام تک اے سی کے ساتھ اور پھر دوبارہ رانا صاحب کے پاس آ جاتا اور رات گئے تک انہی کے ساتھ رہتا۔ سبھی کام خوش اسلوبی سے انجام پا گئے۔ سامان کی ترسیل فوج کی نگرانی میں ہو ئی۔ تحصیل فیروز والا آئے فوجی دستے کا انچارج لمبا اونچا کرنل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: صاحبزادہ فرحان مذاق ہی مذاق میں چھکے مارتے ہیں، آسٹریلوی کھلاڑی اسٹیو اسمتھ کا بیان
پولنگ کا جائزہ
الیکشن والے دن صبح کے 10 بجے تک کوئی سنجیدہ قسم کی الیکشن شکایت موصول نہ ہوئی تو جج صاحب کی خواہش پر میں سرکاری جیپ میں عزیز اور اشرف کے ہمراہ حلقے میں پولنگ کا جائزہ لینے نکلا۔ اس دور میں موبائل فون نیا نیا آیا تھا اور آج کی طرح اتنا عام نہیں تھا۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








