مغربی کنارے کے الحاق کا منصوبہ، نیتن یاہو نے یو اے ای کے دباؤ میں آ کر فیصلہ واپس لے لیا
نیتن یاہو کا مغربی کنارے کی ضم کارروائی معطل کرنا
غزہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وارننگ کے بعد مغربی کنارے کے بعض حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کارروائی کو معطل کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوشت کھانے کے شوقین افراد کے لیے Lake City میں MeatVore ریسٹورنٹ کھل گیا
حکومتی ایجنڈے میں تبدیلی
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے جمعرات کو اپنی حکومت کے ایجنڈے سے مغربی کنارے کے الحاق کا معاملہ ہٹا دیا، جس کے بعد یہ ایجنڈا فلسطینی علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال پر مرکوز کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈولفن ایان: ‘مجھے ویڈیو بنا کر مسلسل بلیک میل کیا گیا، اسی خوف کے باعث صلح کی تھی’
یو اے ای کی تنقید کا اثر
ذرائع کے مطابق یو اے ای کی جانب سے سخت تنقید کے بعد نیتن یاہو نے اپنی کابینہ سے الحاق کے معاملے کو واپس لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول کی قیمت میں 7 روپے 54 پیسے کی بڑی کمی، نوٹی فیکیشن جاری
ابراہیمی معاہدہ کے تحفظ کا خدشہ
امارات نے اسرائیل کو واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ مغربی کنارے کے علاقے کا اسرائیل میں ضم کرنے کا اقدام ابراہیمی معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جو 2020 میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی بنیاد تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں پولیس نے ماحولیاتی انصاف مارچ کو پی ٹی آئی مارچ سمجھ کر نفری طلب کر لی
مالیاتی وزیر کی تجویز اور یو اے ای کا جواب
اس سے قبل اسرائیل کے وزیر خزانہ نے مغربی کنارے کے 5 میں سے 4 حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر یو اے ای نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ کسی بھی قسم کا الحاق سرخ لکیر ہے۔
تعلقات کی تاثیر
یو اے ای کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کی کوشش کی تو یہ اقدام نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔








