مغربی کنارے کے الحاق کا منصوبہ، نیتن یاہو نے یو اے ای کے دباؤ میں آ کر فیصلہ واپس لے لیا
نیتن یاہو کا مغربی کنارے کی ضم کارروائی معطل کرنا
غزہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وارننگ کے بعد مغربی کنارے کے بعض حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کارروائی کو معطل کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی بدمعاشوں نے بھاری رشوت دیکر بھارت کو گھٹیا جہاز بکوا دیے: سابق بھارتی جج کا طنز
حکومتی ایجنڈے میں تبدیلی
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے جمعرات کو اپنی حکومت کے ایجنڈے سے مغربی کنارے کے الحاق کا معاملہ ہٹا دیا، جس کے بعد یہ ایجنڈا فلسطینی علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال پر مرکوز کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نمونیابچوں اور بزرگوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے: وزیر اعلیٰ پنجاب
یو اے ای کی تنقید کا اثر
ذرائع کے مطابق یو اے ای کی جانب سے سخت تنقید کے بعد نیتن یاہو نے اپنی کابینہ سے الحاق کے معاملے کو واپس لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز گل کے خلاف سوشل میڈیا پر نامناسب ویڈیو شئیر کرنے پر مقدمہ درج
ابراہیمی معاہدہ کے تحفظ کا خدشہ
امارات نے اسرائیل کو واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ مغربی کنارے کے علاقے کا اسرائیل میں ضم کرنے کا اقدام ابراہیمی معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جو 2020 میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی بنیاد تھا۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا اور افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں سوشل میڈیا پر دہشت گردی پر مبنی مواد چلایا جارہا ہے، طلال چودھری
مالیاتی وزیر کی تجویز اور یو اے ای کا جواب
اس سے قبل اسرائیل کے وزیر خزانہ نے مغربی کنارے کے 5 میں سے 4 حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر یو اے ای نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ کسی بھی قسم کا الحاق سرخ لکیر ہے۔
تعلقات کی تاثیر
یو اے ای کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کی کوشش کی تو یہ اقدام نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔








