مغربی کنارے کے الحاق کا منصوبہ، نیتن یاہو نے یو اے ای کے دباؤ میں آ کر فیصلہ واپس لے لیا
نیتن یاہو کا مغربی کنارے کی ضم کارروائی معطل کرنا
غزہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وارننگ کے بعد مغربی کنارے کے بعض حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کارروائی کو معطل کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر اور امریکی قونصل جنرل لاہور کرسٹن کے ہاکنز سے اہم ملاقات
حکومتی ایجنڈے میں تبدیلی
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے جمعرات کو اپنی حکومت کے ایجنڈے سے مغربی کنارے کے الحاق کا معاملہ ہٹا دیا، جس کے بعد یہ ایجنڈا فلسطینی علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال پر مرکوز کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے ارشد خان “چائے والا” کا قومی شناختی کارڈ بحال کردیا
یو اے ای کی تنقید کا اثر
ذرائع کے مطابق یو اے ای کی جانب سے سخت تنقید کے بعد نیتن یاہو نے اپنی کابینہ سے الحاق کے معاملے کو واپس لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا؟
ابراہیمی معاہدہ کے تحفظ کا خدشہ
امارات نے اسرائیل کو واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ مغربی کنارے کے علاقے کا اسرائیل میں ضم کرنے کا اقدام ابراہیمی معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جو 2020 میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی بنیاد تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ہندو انتہا پسندوں کا عیسائی پادری پر بدترین تشدد، چہرے پر سرخ سندور مل دیا، جوتوں کا ہار پہنا کر گاؤں میں گھمایا
مالیاتی وزیر کی تجویز اور یو اے ای کا جواب
اس سے قبل اسرائیل کے وزیر خزانہ نے مغربی کنارے کے 5 میں سے 4 حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر یو اے ای نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ کسی بھی قسم کا الحاق سرخ لکیر ہے۔
تعلقات کی تاثیر
یو اے ای کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کی کوشش کی تو یہ اقدام نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔








