مغربی کنارے کے الحاق کا منصوبہ، نیتن یاہو نے یو اے ای کے دباؤ میں آ کر فیصلہ واپس لے لیا
نیتن یاہو کا مغربی کنارے کی ضم کارروائی معطل کرنا
غزہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وارننگ کے بعد مغربی کنارے کے بعض حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کارروائی کو معطل کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ خوشگوار سرپرائز، مجھے نہیں لگتا 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کا جلسہ کامیاب ہوگا، احتجاج کی حکمت عملی کہاں گئی؟ شیر افضل مروت
حکومتی ایجنڈے میں تبدیلی
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے جمعرات کو اپنی حکومت کے ایجنڈے سے مغربی کنارے کے الحاق کا معاملہ ہٹا دیا، جس کے بعد یہ ایجنڈا فلسطینی علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال پر مرکوز کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ پہلے تو آیا نہیں لیکن پاکستانی حملے کے بعد فوری آگیا، تو اس جنگ کا فاتح کون ہوا؟ صحافی نے ایسی بات بتادی کہ قوم کے سر فخر سے بلند ہوگئے۔
یو اے ای کی تنقید کا اثر
ذرائع کے مطابق یو اے ای کی جانب سے سخت تنقید کے بعد نیتن یاہو نے اپنی کابینہ سے الحاق کے معاملے کو واپس لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: پی ٹی آئی رکن اسمبلی میر اکبر خان کی کامیابی کالعدم قرار
ابراہیمی معاہدہ کے تحفظ کا خدشہ
امارات نے اسرائیل کو واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ مغربی کنارے کے علاقے کا اسرائیل میں ضم کرنے کا اقدام ابراہیمی معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جو 2020 میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی بنیاد تھا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے 11ویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل میں تبدیلی کی منظوری دیدی
مالیاتی وزیر کی تجویز اور یو اے ای کا جواب
اس سے قبل اسرائیل کے وزیر خزانہ نے مغربی کنارے کے 5 میں سے 4 حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر یو اے ای نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ کسی بھی قسم کا الحاق سرخ لکیر ہے۔
تعلقات کی تاثیر
یو اے ای کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کی کوشش کی تو یہ اقدام نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔








